اتحاد کی طاقت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۷
کرتا ہے۔ اور اللہ وسعت والا اور علم والا ہے۔ تمھارے دوست تو بس اللہ اور اس کا رسول اور یعنی ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو دوست بئے تو بے شک اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔ ۵۲-۵۶ _ ایمان لانے کے بعد جو شخص ایمان کے تقاضے پورے نہ کرے وہ اللہ کی نظر میں دین کو قبول کرنے کے بعد دین سے پھرگیا۔ اللہ کی نظر میں سچے ایمان والے لوگ وہ ہیں جن کے اندر ایمان اس طرح داخل ہو کہ ان کو محبت کی سطح پر اللہ سے تعلق پیدا ہو جائے، ان کو اسلامی مقاصد کی تکمیل اتنی عزیز ہو کہ جو لوگ اسلام کی راہ میں ان کے بھائی بنیں ان کے لئے ان کے دل میں نرمی اور ہمدردی کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہے۔ وہ مسلمانوں کے لئے اس درجہ شفیق بن جائیں کہ ان کی طاقت اور ان کی صلاحیت کبھی مسلمانوں کے مقابلہ میں استعمال نہ ہو۔ وہ دین کے معاملے میں اتنے پختہ ہوں کہ غیر اسلامی لوگوں کے افکار و اعمال سے کوئی اثر قبول نہ کریں۔ ان کے جذبات اس درجہ اصول کے تابع ہو جائیں کہ مسلمانوں کے لئے وہ پھول سے زیادہ نازک ثابت ہوں مگر نامسلمانوں کے لئے وہ پتھر سے زیادہ سخت بن جائیں۔ کوئی نامسلمان کبھی ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کرسکے۔ اسلامی زندگی ایک بامقصد زندگی ہے اور اسی لئے وہ جدوجہد کی زندگی ہے۔ مسلمان کا مشن یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچائے۔ جہنم کی طرف جاتی ہوئی دنیا کو جنت کے راستہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کام کے فطری تقاضے کے طور پر آدمی کے سامنے طرح طرح کی مشکلیں اور طرح طرح کی ملامتیں پیش آتی ہیں۔ حتی کہ دو الگ گروہ بن جاتے ہیں۔ ایک دنیا پرستوں کا اور دوسرا آخرت کے مسافروں کا۔ ان کے درمیان ایک مستقل کش مکش شروع ہو جاتی ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ ان سارے مواقع پر وہ اس انسان کا ثبوت دے جو اللہ کے بھروسہ پر چل رہا ہے اور نا اللہ کے سوا کسی کی پروا کئے بغیر اپنا اسلامی سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ موت کے دروازہ میں داخل ہو کر خدا کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
اس طرح کے لوگ کسی مقام پر جب قابلِ لحاظ تعداد میں پیدا ہو جائیں تو زمین کا غلبہ بھی انہیں کے لئے مقدر کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی ان کا مرکز توجہ تمام تر اللہ بن جاتا ہے۔ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ یعنی ان کے باہمی تعلقات ایک دوسرے کی خیر خواہی پر قائم ہوتے ہیں، وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہوتے ہیں۔ وہ معاملات دنیا میں کوئی بھی چیز ان کو انانیت پر آمادہ نہیں کرتی بلکہ وہ ہر موقع پر وہی کرتے ہیں جو اللہ چاہے۔ وہ تواضع اختیار کرنے والے ہوتے ہیں نہ کہ سرکشی کرنے والے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues