تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸
تذکیر القرآن المائدہ ۵
اے ایمان والو، ان لوگوں کو اپنا دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنایا ہے، ان لوگوں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور نہ کافروں کو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر تم ایمان والے ہو۔ اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ لوگ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔ کہو کہ اے اہل کتاب، تم ہم سے صرف اس لئے ضد رکھتے ہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا اور اس پر جو ہم سے پہلے اترا۔ اور تم میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔ کہو کیا میں تم کو بتاؤں وہ جو اللہ کے یہاں انجام کے اعتبار سے اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ وہ جس پر خدا نے لعنت کی اور جس پر اس کا غضب ہوا۔ اور جن میں سے بندر اور سور بنا دئے اور انھوں نے شیطان کی پرستش کی۔ ایسے لوگ مقام کے اعتبار سے بدتر اور راہ راست سے بہت دور ہیں ۶۰- وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں ان کے درمیان جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھو بیٹھتے ہیں۔ حتی کہ ایسی چیزیں جو بلا اختلاف قابل احترام ہیں ان کا بھی مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ یہی مدینہ کے یہود کا حال تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی اذان کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں رکتے تھے، جو لوگ اتنے بے حس اور اتنے غیر سنجیدہ ہوجائیں ان سے ایک مسلمان کا تعلق دعوت کا تو ہو سکتا ہے مگر دوستی کا نہیں ہو سکتا۔ ان لوگوں کی خدا سے بے خوفی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سچے مسلمانوں کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے تمام جرائم کے باوجود اپنے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ خدا کے یہاں بالکل درست ہے۔ جب وہ اپنی اس کیفیت کی اصلاح نہیں کرتے تو بالآخر ان کی بے حسی ان کو اس نوبت تک پہنچاتی ہے کہ ان کی عقل حق و باطل کے معاملہ میں کند ہو جاتی ہے۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان مگر باطن کے اعتبار سے بدترین جانور بن جاتے ہیں۔ وہ لطیف احساسات جو آدمی کے اندر خدا کے چوکیدار کی طرح کام کرتے ہیں، جو اس کو برائیوں سے روکتے ہیں وہ ان کے اندر ختم ہو جاتے ہیں۔ مثلاً حیا، شرافت، وسعت ظرف، پاکیزہ طریقوں کو پسند کرنا، وغیرہ۔ اس گراوٹ کا آخری درجہ یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی شیطانی راستوں پر چل پڑے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو وہ لعنت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ خدا کی رحمت سے آخری حد تک دور ہو جاتا ہے۔ اس کی انسانیت مسخ ہو جاتی ہے وہ فطرت کے سیدھے راستہ سے بھٹک کر جانوروں کی طرح جینے لگتا ہے۔
انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے وہ عقل ہے۔ مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کی عقل اس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔ اب وہ ظاہر میں انسان مگر باطن میں حیوان ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ صاحب بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچہ کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues