Al-Risala · September 1980 · page 29

تذکیر القرآن المائدہ ۵

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹

جس پر تم ایمان لائے ہو۔ اللہ تم سے تمھاری بے معنی قسموں پر گرفت نہیں کرتا۔ مگر جن قسموں کو تم نے مضبوط باندھا ان پر وہ ضرور تمھاری گرفت کرے گا۔ ایسی قسم کا کفارہ ہے دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا کپڑا پہنا دینا یا ایک گردن آزاد کرنا۔ اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ کفارہ ہے تمھاری قسموں کا جب تم قسم کھا بیٹھو۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اس طرح اللہ تمھارے لئے اپنے احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو ۸۹ - ۷۸۔

بندہ اور خدا کا تعلق ایک زندہ تعلق ہے جو نفسیات کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ یہ تمام ترایک اوپرونی واقعہ ہے۔ مگر مذہب کے زوال کے زمانہ میں جب یہ اندرونی تعلق کمزور پڑتا ہے تو لوگوں میں یہ ذہن ابھرتا ہے کہ اس کو خارجی ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھیں میں سے دنیوی لذتوں کو چھوڑنا بھی ہے جس کو رہبانیت کہا جاتا ہے۔ یہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ مادی چیزوں سے دوری آدمی کو خدا سے قریب کرنے کا باعث بنے گی۔ صحابہ میں سے بعض افراد اس قسم کے رہبانی خیالات سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ گوشت نہ کھائیں ۔ راتوں کو نہ سوئیں ۔ اپنے آپ کو خصی کرائیں اور گھروں کو چھوڑ کر درویشی کی زندگی اختیار کر لیں۔ حتیٰ کہ بعض نے اس کی قسمیں بھی کھا لیں۔ اس پر انھیں منع کیا گیا اور کہا گیا کہ حلال کو حرام کرنے سے کوئی شخص خدا کی قربت حاصل نہیں کر سکتا۔ آدمی جو کچھ حاصل کرتا ہے فطرت کے حدوں میں رہ کر حاصل کرتا ہے ، اس سے آزاد ہو کر۔

اسلام کے مطابق اصل رہبانیت " تقویٰ اور شکر ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے ۔ اس کے اندر یہ خواہش ابھرتی ہے کہ ایک حرام چیز سے لذت حاصل کرے مگر وہ خدا کے ڈر سے رک جاتا ہے، کسی کے اندر غصہ آ جاتا ہے اور وہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو تہس نہس کر دے مگر خدا کا ڈر اسے اپنے بھائی کے خلاف تخریبی کارروائی سے روک دیتا ہے۔ اس کا دل کہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے مگر خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے کو خدا کی مقرر کی ہوئی حدود کا پابند بنا لے۔ یہی معاملہ شکر کا ہے۔ آدمی کو کوئی دنیوی چیز حاصل ہوتی ہے، صحت، دولت، عہدہ، ساز و سامان، مقبولیت کا کوئی حصہ اس کو ملتا ہے۔ مگر وہ خود پسندی اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ ہر چیز کو خدا کا عطیہ سمجھ کر اس کے احسان کا اعتراف کرتا ہے، وہ تواضع اور ممنونیت کے جذبات میں ڈھل جاتا ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو خدا سے جوڑتی ہیں۔ خدا سے ڈرنے اور اس کا شکر ادا کرنے سے آدمی اس کی قربت حاصل کرتا ہے۔ مادی چیزوں سے دوری یقیناً مطلوب ہے ، مگر وہ ذہنی قلبی دوری ہے نہ کہ جسمانی دوری۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page