تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۸
تذکیر القرآن المائدہ ۵ ایمان والوں کے ساتھ دشمنی میں تم سب سے بڑھ کر یہیود اور مشرکین کو پاؤ گے۔ اور ایمان والوں کے ساتھ دوستی میں تم سب سے زیادہ ان لوگوں کو پاؤ گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان میں عالم اور راہب ہیں۔ اور اس لیے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔ اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے حبیب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔ پس اللہ ان کو اس قول کے بدلہ میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔ اور جنہوں نے انکار کیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں ۸۲-۸۶ اس آیت میں جنت کو ”قول“ کا بدلہ قرار دیا گیا ہے۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان کی پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا ۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل در دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان کی کوئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے ، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لئے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زندہ نشانی بن گیا۔ یہ ریانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتیٰ کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔ قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعہ ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطق عمل ہے، اس لئے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دیدے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کر لیتا ہے۔ حق کو ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتا ہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہیں اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ اور کسی حال میں اس کو قبول نہ کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues