تذکیر القرآن المائدہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۱
نیزوں کی زد میں ہوگا تاکہ اللہ جانے کہ کون شخص اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔ پھر جس نے اس کے بعد زیادتی کی تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اے ایمان والو، شکار کو نہ مارو جبکہ تم حالتِ احرام میں ہو۔ اور تم میں سے جو شخص اس کو جان بوجھ کر مارے تو اس کا بدلہ اسی طرح کا جانور ہے جیسا کہ اس نے مارا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے اور نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے۔ یا اس کے کفارہ میں چند محتاجوں کو کھانا کھلانا ہوگا ۔ یا اس کے برابر روزے رکھتے ہوں گے، تاکہ وہ اپنے کئے کی سزا چکھے۔ اللہ نے معاف کیا جو کچھ ہو چکا۔ اور جو شخص پھرے گا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا۔ اور اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والا ہے ۹۵-۹۳ حج یا عمرہ کے لئے یہ قاعدہ ہے کہ کعبہ پہنچنے سے پہلے مقررہ مقامات سے احرام باندھ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کعبہ تک کے سفر میں جانور یا چڑیاں سامنے آتی ہیں جن کو بآسانی شکار کیا جا سکتا ہو۔ مگر ایسے شکار کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ آدمی خواہ خود شکار کرے یا کسی دوسرے کو شکار کرنے میں مدد دے، دونوں چیزیں احرام کی حالت میں نا جائز ہیں۔ روایات کے مطابق یہ آیت حدیبیہ کے سفر میں اتری جب کہ مسلمانوں نے عمرہ کے ارادہ سے احرام باندھ رکھا تھا۔ اس وقت چڑیاں اور جانور کثیر تعداد میں اتنے قریب پھر رہے تھے کہ با آسانی انھیں تیر یا نیزے سے مارا جا سکتا تھا۔ مسلمان اس وقت اپنی عادت اور ضرورت کے تحت چاہتے بھی تھے کہ ان کا شکار کریں۔ مگر حکم اترتے ہی ہر ایک نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ یہ حکم جو احرام کی حالت میں جانوروں کے بارے میں دیا گیا ہے وہی روزمرہ کی زندگی میں عام انسانوں کے ساتھ مطلوب ہے۔
اس حکم کا اصل مقصد یہ ہے کہ "اللہ جان لے کہ کون ہے جو اللہ کو دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے یہ دنیا میں انسان کو رکھ کر خدا اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔ اب وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ لوگوں میں کون اتنا حقیقت شناس ہے کہ بظاہر خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کو اس کی تمام طاقتوں کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کون اتنا غافل ہے کہ خدا کو اپنے سامنے نہ پا کر بے خوف ہو جاتا ہے اور من مانی کارروائیاں کرنے لگتا ہے۔ اس کا تجربہ حج کے سفر میں چند دن اور انسانی تعلقات میں روزانہ ہوتا ہے۔ ایک آدمی کسی کی زد میں اس طرح آتا ہے کہ اس کے لئے بالکل ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی جان پر حملہ کرے۔ وہ اس کو مالی نقصان پہنچائے۔ وہ اس کے بارے میں ایسی بات کہے جس سے اس کی رسوائی ہوتی ہو۔ اب ایک شخص وہ ہے جو اس طرح قابو پانے کے باوجود خدا کے ڈر سے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کو اس کے معاملہ میں روک لیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو کسی پر قابو پاتے ہی اس کو ذلیل کرتا ہے اور اس کو اپنی طاقت کا نشانہ بناتا ہے۔ ان میں سے پہلے شخص نے یہ ثابت کیا کہ وہ دیکھے بغیر اللہ سے ڈرتا ہے اور دوسرے نے اپنے بارے میں اس کے برعکس حالت کا ثبوت دیا۔ پہلے کے خدا کے یہاں رہنما۔ احکامات پر اور دوسرے کے لئے دردناک عذاب ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues