تدبر القرآن
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۲
تدبر القرآن
تمہارے لئے دریا کا شکار اور اس کا کھانا جائز کیا گیا، تمہارے فائدے کے لئے اور قافلوں کے لئے۔ اور جب تک تم احرام میں ہو خشکی کا شکار تمہارے اوپر حرام کیا گیا ۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے پاس تم حاضر کئے جاؤ گے۔ اللہ نے کعبہ، حرمت والے گھر کو لوگوں کے لئے قیام کا باعث بنایا۔ اور حرمت والے مہینوں کو اور قربانی کے جانوروں کو اور گلے میں پٹہ پڑے ہوئے جانوروں کو بھی، یہ اس لئے کہ تم جانو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ رسول پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ کہو کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں ہو سکتے ، اگر چہ ناپاک کی کثرت تم کو بھلی لگے۔ پس اللہ سے ڈرو اے عقل والو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔ (۹۶-۱۰۰)
حالتِ احرام میں شکار حرام ہے۔ مگر جو لوگ دریا یا سمندر سے بیت اللہ کا سفر کر رہے ہوں ان کے لئے جائز ہے کہ وہ پانی میں شکار کریں اور اس کو کھائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شکار کی یہ ممانعت اس کے اندر کسی ذاتی حرمت کی بنا پر نہ تھی بلکہ محض ”آزمائش“ کے لئے تھی، انسان کو آزمانے کے لئے اللہ نے علامتی طور پر کچھ چیزیں مقرر کر دیں۔ اس لئے جہاں شارع نے محسوس کیا کہ جو چیز آزمائش کے لئے تھی وہ بندوں کے لئے غیر ضروری مشقت کا سبب بن جائے گی وہاں قانون میں نرمی کر دی گئی۔ کیوں کہ سمندر کے سفر میں اگر زاد راہ نہ رہے تو آدمی کے لئے اپنی زندگی کو باقی رکھنے کی اس کے سوا اور صورت نہیں رہتی کہ وہ آبی جانوروں کو اپنی خوراک بنائے۔ کعبہ اسلام اور ملتِ اسلام کا دائمی مرکز ہے۔ کعبہ کی طرف رخ کرنے کو نماز کی شرط ٹھہرا کر اللہ نے دنیا کے ایک ایک مسلمان کو کعبہ کی مرکزیت کے ساتھ جوڑ دیا۔ پھر حج کی صورت میں اس کو اسلام کا بین اقوامی اجتماع بنا دیا۔ زیارت کعبہ کے ذیل میں جو شعائر مقرر کئے گئے ہیں ان کے احترام کی وجہ ان کا کوئی ذاتی تقدس نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آدمی کے امتحان کی علامت ہیں۔ بندہ جب ان شعائر کے بارے میں اللہ کے حکم کو پورا کرتا ہے تو وہ اپنے ذہن میں اس حقیقت کو تازہ کرتا ہے کہ اللہ اگر چہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا مگر وہ زندہ موجود ہے۔ وہ حکم دیتا ہے وہ بندوں کی نگرانی کرتا ہے۔ وہ ہماری تمام حرکتوں سے باخبر ہے۔ یہ احساسات آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرتے ہیں اور اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ زندگی کے مختلف مواقع پر اللہ کا سچا بندہ بن کر رہ سکے۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جس طرف بھیڑ ہو، جدھر ظاہری ساز و سامان کی کثرت ہو اسی کو اہم سمجھ لیتا ہے مگر خدا کے نزدیک اس کی اہمیت صرف کیفیت کی ہے، مقدار کی نہیں۔ کس کے سالا کو ڈار کی قیمت نہیں ہوتی کہ کثرت ہو
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues