Al-Risala · September 1980 · page 34

آخرت پسندی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۴

آخرت پسندی

مومن وہ ہے جس کی زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جائے۔ اس کی یادوں میں آخرت سمائی ہوئی ہو۔ وہ اپنی سرگرمیوں میں سب سے زیادہ آخرت کا لحاظ کرتا ہو۔ تعلقات اور معاملات میں اس کو ہمیشہ آخرت یاد رہتی ہو۔ کسی سے بگاڑ اور اختلاف ہو جائے تب بھی نہ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرے جو آخرت کے اعتبار سے اس کو کرنا چاہئے۔ وہ فائدوں اور مصلحتوں پر چلنے کے بجائے جنت اور جہنم کو سوچ کر اپنی راہ بناتا ہو۔ جب کوئی حق اس کے سامنے آئے تو وہ یہ خیال کر کے اس کو مان لے کہ دنیا میں اگر نہ مانا تو آخرت کے دن اس کو ماننا ہوگا اور آخرت کا ماننا صرف رسوائی کو بڑھانے والا ہوگا۔ وہ اپنی کامیابی اور ناکامی اور اپنی عزت اور ذلت کو آخرت کے اعتبار سے جانچتا ہو۔ اس کی زندگی آخرت رخی زندگی ہو نہ کہ د نیا رخی زندگی۔

تعمیر

دنیا کے معاملات میں مومن کا طریقہ تعمیری طریقہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کو خود اپنی مثبت جدوجہد کی بنیاد پر کھڑی کرتا ہے۔ وہ احتجاج اور مطالبہ پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی خداداد صلاحیتوں پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ نفرت اور غصہ کا جواب محبت اور سنجیدگی سے دیتا ہے۔ وہ اختلاف کے مواقع پر اتحاد کی راہیں تلاش کرتا ہے۔ اس کو اپنی تعمیر سے دل چسپی ہوتی ہے نہ کہ دوسروں کی تخریب سے۔ جو کچھ دوسروں کے پاس ہے وہ اس کی ہوس نہیں کرتا بلکہ جو کچھ اس کے اپنے پاس ہے اس کی بنیاد پر اپنا مستقبل بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

دعوت الی اللہ

مومن کی تحریک خدا کی طرف پکارنے کی تحریک ہوتی ہے۔ خدا نے ہم کو بنایا، وہ ہم کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ وہی ہے جو ہماری ضروریات کا سامان کرتا ہے اس لئے ہمارا قلبی تعلق سب سے زیادہ خدا سے ہونا چاہئے۔ درخت، پانی، چڑیاں، ہوائیں اور سورج چاند، اس دنیا کی سب چیزیں خدا کے مقررہ نقشہ پر چل رہی ہیں، ہم کو بھی یہاں اسی نقشہ کے مطابق زندگی گزارنا چاہئے۔ خدا نے اپنے رسول بھیجے اور اپنی کتاب اتاری تاکہ ہم ان سے رہنمائی حاصل کریں، ہم کو چاہئے کہ ہم رسول اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو اپنی زندگی میں رہنما مقام عطا کریں۔ خدا اپنے منصوبے کے مطابق ایک روز ظاہر ہو گا اور موجودہ دنیا کو توڑ کر دوسری دنیا بنائے گا جہاں اس کے نافرمان بندوں کے لئے جہنم ہوگی اور اس کے فرماں بردار بندوں کے لئے جنت۔ ہم کو چاہئے کہ ہم ایسی زندگی گزاریں کہ آنے والے دن میں ہمارا شمار اس کے فرماں برداروں میں ہو نہ کہ نافرمان بندوں میں ۔ یہی زندگی کی اصل حقیقت ہے، مومن خود بھی اپنے آپ کو اس کے مطابق بناتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کے مطابق بننے کی دعوت دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page