Al-Risala · September 1980 · page 33

تدبر القرآن

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳

اندر کو باہر لایا جائے تا کہ اللہ آخرت میں اس کے بارے میں جو فیصلہ کرے اس سے انکار کی مجال کسی کو ہو۔ آزمائش کا مطلب ایسی صورت حال آدمی کے سامنے لانا ہے جہاں حسن عمل کے تمام اضافی اسباب حذف ہو گئے ہوں، صرف ایک ہی سبب (اللہ کا ڈر) باقی رہ گیا ہو۔ اسی لئے معمول کے حالات یا ر وزمہرہ کے عمل میں آدمی کی آزمائش نہیں ہو سکتی۔ آزمائش کے لئے ضروری ہے کہ غیر معمولی حالات سامنے لائے جائیں۔ اگر یہ دیکھنا ہو کہ آپ خوش اخلاق ہیں یا نہیں، تو اس کا تجربہ ایک ایسے آدمی کے ذریعہ کیا جا سکتا جو آپ سے نیاز مندی کی باتیں کرتا ہو۔ کیوں کہ نیاز مندی دکھانے والے کے ساتھ تو ہر آدمی خوش اخلاقی ہی کے ساتھ پیش آناً ہے۔ اسی طرح اس کا تجربہ ایک طاقت ور آدمی کے ذریعہ بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ طاقت ور شخصیت کے سامنے ہر آدمی خوش اخلاق بن جاتا ہے۔ کسی کی خوش اخلاقی کو جانچنے کا ذریعہ ایک ایسا شخص ہی بن سکتا ہے جو کمزور اور معمولی آدمی ہو اور اس کے ساتھ وہ ایسے انداز میں کلام کرے جو ناگواری پیدا کرنے والا ہو۔ اسی طرح کسی کی انسانیت دوستی کی جانچ اس طرح نہیں ہو سکتی کہ ایک شان دار اجلاس کیا جائے اور اس کے بعد اس آدمی سے کہا جائے کہ سجے ہوئے اسٹیج پر کھڑے ہو کر تم انسانیت کے موضوع پر ایک تقریر کرو۔ کسی کی انسانیت دوستی کی جانچ اس وقت ہوتی ہے جب ایک بے قیمت آدمی اس کے دروازے پر پہنچتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میں فلاں مصیبت میں پھنس گیا ہوں تم انسانیت کے ناتے میری مدد کرو۔ کوئی شخص فیاض ہے یا نہیں اس کا اندازہ اس وقت نہیں ہوتا جب ایک شان دار قومی مدرسہ سامنے آئے اور اس میں پیسہ دے کر لوگ آتا فاناً شہرت و عزت کی منزلیں طے کر رہے ہوں۔ آدمی کی فیاضی کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کو ایک ایسی خاموش مدد میں پیسہ دینا ہو جس میں اخباری شہرت کا کوئی موقع نہیں۔ کسی شخص کے انصاف کا حال اس وقت معلوم نہیں ہوتا کہ متعلقہ فریق سے تعلقات خوش گوار ہوں بلکہ آدمی کی انصاف پسندی یا بے انصافی اس وقت کھلتی ہے جب کہ دونوں فریقوں کے درمیان تلخی پیدا ہوگئی ہو اور انصاف کرنا بظاہر اپنے حریف کو فائوہ پہنچانے کے ہم معنی بن گیا ہو۔ آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یا نہیں، اس کا حقیقی اندازہ نہ ان اعمال میں ہوتا جوآد می انسانوں سے دور تسبیح ونوافل کی صورت میں کرتا ہے، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کا سابقہ انسانوں سے پڑے اور ایک شخص کے معاملہ میں اللہ سے ڈرنا اس قیمت پر ہو کہ آدمی اپنی انا کو کچلے اور اپنی مصلحتوں کو برباد کرے __ آدمی معمول کے حالات میں خدا پرستی داہے عمل کرتا ہے۔ مگر خدا جب غیر معمولی مواقع پیدا کرے اس کی خدا پرستی کو جانچنا چاہتا ہے تو عین اس وقت دہ خدا پرستی کا ثبوت دینے میں نا کام ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page