Al-Risala · September 1980 · page 47

موت کے دروازہ پر

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۷

موت کے دروازہ پر

موت کا مرحلہ سب سے زیادہ یقینی مرحلہ ہے جس سے آدمی کو لازماً گزرنا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کسی کو زندگی وہ ملے۔ مگر جس کو زندگی ملی، اس کے لئے موت کا آنا لازمی ہے۔ ہر آدمی جو زندہ ہے وہ ایک روز مرے گا۔ ہر آدمی جو دیکھتا اور بولتا ہے یقیناً ایک روز اس کی آنکھ بے نور ہوگی اور اس کا بولنا بند ہو جائے گا۔ ہر آدمی پر وہ وقت آنا ہے جب کہ وہ موت کے دروازہ پر کھڑا کر دیا جائے۔ اس وقت اس کے پیچھے دنیا ہوگی اور اس کے آگے آخرت۔ وہ ایک ایسی دنیا کو چھوڑ رہا ہوگا جہاں وہ دوبارہ کبھی نہیں آئے گا اور ایک ایسی دنیا میں داخل ہورہا ہوگا جس سے اس کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ وہ اپنے عمل کے میدان سے ہٹا کر وہاں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ اپنے عمل کا ابدی انجام بھگت رہا رہے۔ زندگی ایک بے اعتبار چیز ہے، جب کہ موت بالکل یقینی ہے۔ ہم زندہ صرف اس لئے ہیں کہ ابھی ہم مرے نہیں ہیں اور موت نہ چیز ہے جس کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ ہم ہر لمحہ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں حالاں کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ مرے ہوئے ہیں۔ وہ موت جس کا وقت مقرر نہ ہو، جو ابھی اگلے لمحہ آسکتی ہو وہ گویا ہر وقت آرہی ہے اس کے متعلق یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ آچکی ہے، بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ وہ آنے والی ہے۔ اسی لئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو (عدنفسك من اهل القبور) موت ہر چیز کو باطل کر دیتی ہے، وہ ہماری زندگی کا سب سے زیادہ بھیانک واقعہ ہے۔ تاہم موت اگر صرف زندگی کا خاتمہ ہوتی تو وہ زیادہ بھیانک نہیں تھی۔ موت کا مطلب اگر صرف یہ ہوتا کہ اب آئندہ کے لئے اس انسان کا وجود نہ رہے گا جو چلتا تھا اور جو دیکھتا اور سنتا تھا تو اپنی ساری ہولناکیوں کے باوجود یہ صرف ایک وقتی حادثہ تھا نہ کہ کوئی مستقل مسئلہ۔ مگر اصل مشکل یہ ہے کہ موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ ایک نئی اور ابدی زندگی کا آغاز ہے۔ موت کا مطلب اپنے ابدی انجام کی دنیا میں داخل ہونا ہے۔ ہر آدمی زندگی سے موت کی طرف سفر کر رہا ہے۔ کسی کا سفر دنیا کی خاطر ہے اور کسی کا آخرت کی خاطر۔ کوئی سامنے کی چیزوں میں جی رہا ہے تو کوئی چھپی ہوئی چیزوں میں۔ کوئی اپنی خواہش اور انا کی تسکین کے لئے دوڑ دھوپ کر رہا ہے اور کسی کو خدا کے خوف اور خدا کی محبت نے بے چین کر رکھا ہے۔ دونوں قسم کے لوگ شام کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی تھکان کو مٹائیں اور اگلے دن دوبارہ صبح کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی پسند کی دنیا میں دوبارہ سرگرم ہو جائیں۔ موجودہ دنیا میں دونوں بظاہر یکساں نظر آتے ہیں۔ مگر موت کے بعد آنے والی منزل کے اعتبار سے دونوں کا حال یکساں نہیں۔ جو شخص خدا اور آخرت میں جی رہا ہے وہ اپنے کو بچا رہا ہے اور جو شخص دنیا کی دلچسپیوں اور اپنے نفس کی خواہشوں میں جی رہا ہے وہ اپنے کو ہلاک کر رہا ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page