Al-Risala · September 1980 · page 48

موت کے دروازہ پر

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۸

ہر آدمی صبح کرتا ہے پھر وہ اپنے کو بچاتا ہے، پھر ان میں سے کوئی اپنے کو رہا کرتا ہے اور کوئی اپنے کو ہلاک کر دیتا ہے (کل الناس يغدو فبائع نفسه فمعتقها أو موبقها)

آج لوگوں کے پاس الفاظ ہیں جن کو وہ بے تکان دہرا رہے ہیں۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ان کے الفاظ چھن چکے ہوں گے۔ ان کو اپنا ہر بول بالکل بے قیمت نظر آئے گا۔ وہاں کوئی سننے والا نہ ہوگا جو ان کے الفاظ کو سنے۔ کوئی پریس نہ ہوگا جو ان کے الفاظ کو چھاپے۔ کوئی لاؤڈ اسپیکر نہ ہوگا جو ان کے الفاظ کو فضا میں بکھیرے ۔ ان کی خوش خیالیوں کا محل گر چکا ہو گا وہ حسرت ویاس کی تصویر بنے ہوئے اپنے چاروں طرف دیکھیں گے اور کچھ نہ کر سکیں گے ۔ اس وقت ان کو نظر آ جائے گا کہ دنیا میں حق کا انکار کرنے کے لئے وہ الفاظ کا سہارا لئے ہوئے تھے وہ کس قدر بے قیمت تھے۔ یہ دنیا چونکہ امتحان کی دنیا ہے اس لئے یہاں الفاظ ہر معنی کو قبول کر لیتے ہیں، ایک ناحق بات کو بھی یہاں شان دار الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے، مگر موت کے بعد جو دنیا آئے گی وہاں صرف سچی بات بولنا ممکن ہوگا۔ وہاں الفاظ کسی غلط بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے (اکثروا ذکر هادم اللذات) یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی اگر موت کو یاد کرتا رہے تو اس کے لئے دنیا کی وہ تمام چیزیں بالکل بے حقیقت ہو جائیں جن کی خاطر وہ ظلم اور بے انصافی کرتا ہے اور اپنے لئے جہنم کی آگ میں جلنے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ جس مال کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھتا ہے اور اس کے سمیٹنے میں اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے، وہ اس کو بہت نہیں پاتا کہ موت آجاتی ہے اور اس کے کمائے ہوئے مال سے جدا کر دیتی ہے۔ اگر آدمی کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو تو وہ مال کے پیچھے اپنے کو دیوانہ نہ بنائے۔ آدمی کو کسی سے شکایت ہو جاتی ہے اور وہ اس کو مٹانے اور اس کو برباد کرنے میں لگ جاتا ہے۔ مگر ابھی وہ اپنے تخریبی منصوبے کو پورا نہیں کر پاتا کہ موت اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان حائل ہو جاتی ہے، وہ اپنے دشمن کو اس کے حال میں چھوڑ کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ اگر یہ حقیقت آدمی کے ذہن میں تازہ ہو تو وہ کبھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے ۔ آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے مگر وہ اس کا اعتراف نہیں کرتا کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے اس کا اعتراف کر لیا تو وہ بڑائی کے مقام سے نیچے آجائے گا، اس کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ کر منتشر ہو جائے گا۔ مگر سچائی کے انکار کے بعد اس پر چند دن بھی نہیں گزرتے کہ موت اس کی بڑائی کو ختم کر دیتی ہے اور اس کا سارا نقشہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر وہ موت سے پہلے اس ہونے والے واقعہ کو یاد کرے تو کبھی ایسی سچائی کے انکار کی جرات نہ کرے جس کو چند لمحہ بعد اس کو بہر حال تسلیم کرنا ہے۔ ایک ایسا گھر جو کل جل کر تباہ ہو جانے والا ہو اس کو کوئی نہیں خریدتا۔ ایک ایسا شہر جو اگلے لمحہ بھونچال کی زد میں آنے والا ہو اس میں کوئی داخل نہیں ہوتا ۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ موت کے عظیم تر بھونچال کے معاملہ میں ہر آدمی یہی غلطی کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page