Al-Risala · September 1980 · page 40

کسی کھانے کو حقیر نہ سمجھے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۰

زانه لا ينبغي ان يعذب بالثار الا رب النار (مسلم)

کسی کھانے کو حقیر نہ سمجھے

امام بیہقی نے حضرت امین سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں کچھ مہمان آئے۔ آپ ان کے سامنے روٹی اور سرکہ لائے اور کہا کہ اس کو کھائیے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ کیا ہی بہترین سالن ہے سرکہ ۔ نیز آپ نے فرمایا : ہلاکت ہے اس قوم کے لئے جو اس چیز کو حقیر سمجھے جو اس کے سامنے پیش کی گئی ہو (ہلاکت بالقوم ان يحتقر و اما قدم اليهم کنز العمال جلد ۵)

کبر کا رویہ اللہ کو پسند نہیں

ابو نعیم نے عائشہ رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت آئی۔ اس کے پاس کوئی چیز تھی جو وہ مجھ کو دینا چاہتی تھی ۔ مجھے اس پر رحم آیا اور میں نے اس کا ہدیہ لینا پسند نہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم اس کے ہدیہ کو قبول کرلیتیں اور اس کو کچھ بدلہ دے دیتیں : میرا خیال ہے کہ تم نے اس کو حقیر سمجھا ۔ اے عائشہ ! اضع اختیار کرو۔ کیوں کہ اللہ تو تواضع کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور متکبرین سے بغض رکھتا ہے ۔ (بخاری انک حقیر تیمها فترا ضعی با عائشة ۔ فان الله يحب المتواضعين ويبغض المستكبرين (حلية الاولیاء، جلد ۴) شان ظاہر کرنے کے لئے دعوت کا اہتمام پسندیدہ نہیں احمد اور ابن المبارک نے حمید بن نعیم سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا کو کھانے کی ایک دعوت میں بلایا گیا جس کو انھوں نے قبول کرلیا ۔ جب وہ دونوں اس کے لئے جانے لگے تو عرض نے عثمان رمن سے کہا : میں اس کھانے کے لئے چل رہا ہوں۔ مگر مجھ کو پسند تھا کہ میں اس میں نہ جاتا ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کس لئے ۔ انھوں نے فرمایا : مجھے اندیشہ ہے کہ یہ فخرونمائش کے لئے کیا گیا ہو (خشیت ان يكون مباهاتاً کنز العمال جلد ۵ صفحه 66)

تواضع سے بلندی پیدا ہوتی ہے

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی مال صدقہ دینے سے کم نہیں ہوتا ۔ معافی صرف بندہ کی عزت کو بڑھاتی ہے اور تواضع سے ہمیشہ آدمی کا درجہ بلند ہوتا ہے (ما نقصت صدقة من مال ومازاد الله عبدا بعفو الاعزا وما تواضع احد لله الا رفعه الله ، مسلم) رسول نے اپنا ہاتھ چومنے کی اجازت نہ دی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دکان دار کے یہاں سے کپڑا خریدا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page