حق کے ساتھ تحقیر کا معاملہ کرنا کبر ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۱
حق کے ساتھ تحقیر کا معاملہ کرنا کبر ہے
ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کبر کا تذکرہ ہوا تو آپ نے اس کے بارے میں سخت الفاظ کہے پھر یہ آیت پڑھی : ان الله لا يحب كل مختال فخور (اللہ کسی خود پسند اور بڑائی کرنے والے شخص کو پسند نہیں کرتا)، اس موقع پر ایک شخص نے کہا: خدا کی قسم اے خدا کے رسول میں اپنے کپڑے دھوتا ہوں تو مجھے اس کی سفیدی پسند آتی ہے ۔ مجھے اپنے جوتے کا تسمہ پسند آتا ہے ۔ مجھے اپنے کوڑے کا ٹشن اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : یہ کبر نہیں ۔ کبر تو یہ ہے کہ تم حق کی ناقدری کرو اور لوگوں کو حقیر جانو ( انما الكبر ان تسفه الحق وتغمط الناس . تفسیر ابن کثیر، جلد ثالث، صفحہ ۷)
لوگوں کے درمیان امتیاز کے بغیر بیٹھنا
عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں آئے۔ میں نے چمڑے کا ایک تکیہ آپ کو پیش کیا جس میں چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ زمین پر بیٹھ گئے اور تکیہ میرے اور آپ کے درمیان پڑا رہا ( دخل علی رسول الله صلى الله عليه وسلم فالقيت له وسادة من ادم حشوها ليف فجلس على الارض وصارت الوسادة بيني وبينه، الادب المفرد صفحه ۲۱۷)
معمولی آدمی کی بات پر بھی پوری توجہ دو
ابور فاعہ تمیم بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ میں اپنے وطن سے چل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں پہنچا تو آپ خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے کہا : اے خدا کے رسول، میں ایک مسافر آدمی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم دین کیا ہے۔ میں آپ سے دین کی بابت پوچھنے آیا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آئے اور خطبہ چھوڑ دیا۔ میرے پاس آکر آپ بیٹھ گئے اور اللہ نے جو کچھ آپ کو بتایا تھا وہ مجھ کو بتانا شروع کیا۔ مجھ کو بتانے کے بعد واپس ہوئے اور دوبارہ اپنے خطبہ کو مکمل کیا۔ (مسلم)
بڑوں کے آگے چلنا گستاخی نہیں ہے
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اپنا اونٹ اس سے آگے نہیں بڑھاتا تھا۔ ایک دن ایک دیہاتی آیا، وہ ایک چھوٹی اونٹنی پر سوار تھا۔ اس کی اونٹنی آپ کی اونٹنی سے آگے بڑھ گئی مسلمانوں پر یہ بات شاق گزری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا اندازہ ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ نے اس کا ذمہ لیا ہے کہ دنیا کی جو چیز بھی اونچی ہوگی اس کو نیچا کرے گا (حق على الله ان لاير تفع ، شيئ من الدنيا الا وضعه، بخاری)
جو اپنے کو چھوٹا جانے وہی اللہ کے نزدیک بڑا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اس کو بلند کرتا ہے۔ وہ اپنے جی میں اپنے کو حقیر سمجھتا ہے مگر لوگوں کے نزدیک وہ بڑا ہوتا ہے (مختصر تفسیر ابن کثیر، جلد ثانی، صفحه ۷۷)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues