جو اپنے کو چھوٹا جانے وہی اللہ کے نزدیک بڑا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴
کہ آپ الرسالہ ایجنسی قبول فرما ئیں ۔
" ایجنسی " اپنے عام استعمال کے دائرے سے کاروباری لوگوں کی دل چسپی کی چیز سمجھی جانے لگی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایجنسی کا طریقہ دور جدید کا ایک مفید عطیہ ہے جس کو کسی فکر کی اشاعت کے لئے کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کسی فکری مہم میں اپنے آپ کو شریک کرنے کی یہ ایک انتہائی ممکن صورت ہے اور اسی کے ساتھ اس فکر کو پھیلانے میں اپنا حصہ ادا کرنے کی ایک بے ضرر تدبیر بھی ۔
تجربہ یہ ہے کہ بیک وقت سال بھر کا زر تعاون روانہ کرنا لوگوں کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ مگر پر چہ سامنے موجود ہو تو ہر مہینے ایک پرچہ کی قیمت دے کروہ بآسانی اس کو خرید لیتے ہیں۔ ایجنسی کا طریقہ اسی امکان کو استعمال کرنے کی ایک کامیاب تدبیر ہے۔ مال رسالہ کی تعمیری اور اصلاحی آواز کو پھیلانے کی بہترین صورت یہ ہے کہ جگہ جگہ اس کی ایجنسی قائم کی جائے۔ بلکہ ہمارا ہر ہمدرد اور متفق اس کی ایجنسی لے۔ یہ ایجنسی گویا الرسالہ کو اس کے متوقع خریداروں تک پہنچانے کا ایک کارگر درمیانی وسیلہ ہے۔
وقتی جوش کے تحت لوگ ایک ”بڑی قربانی" دینے کے لئے بآسانی تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر حقیقی کامیابی کا راز ان چھوٹی چھوٹی قربانیوں میں ہے جو سنجیدہ فیصلہ کے تحت لگا تار دی جائیں۔ ایجنسی کا طریقہ اس پہلو سے بھی اہم ہے یہ ملت کے افراد کو اس کی مشق کرانا ہے کہ ملت کے افراد چھوٹے چھوٹے کاموں کو کام سمجھنے لگیں، ان کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہو کہ وہ مسلسل عمل کے ذریعہ نتیجہ حاصل کرنا چاہیں نہ کہ یکبارگی اقدام سے۔
ایجنسی کی صورتیں
پہلی صورت ــــــ الرسالہ کی ایجنسی کم از کم پانچ پر چوں پر دی جاتی ہے۔ کمیشن ۲۵ فی صد ہے۔ پیکنگ اور روانگی کے اخراجات ادارہ الرسالہ کے ذمہ ہوتے ہیں۔ مطلوبہ پر چے کمیشن وضع کرکے بذریعہ وی پی روانہ کئے جاتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ہر شخص ایجنسی لے سکتا ہے ، اگر اس کے پاس کچھ پر چے فروخت ہونے سے رہ گئے ہیں تو اس کو رہی قیمت کے ساتھ واپس لے لیا جائے گا۔
دوسری صورت ــــــ الرسالہ کے پانچ پر چوں کی قیمت بعد وضع کمیشن ساڑھے سات روپیہ ہوتی ہے۔ جو لوگ صاحب استطاعت ہرودہ اسلامی کی خدمت کے جذبہ کے تحت اپنی ذمہ داری پر اخبار جاری کر و اکر ا کی ایجنسی (ورف ہائیوں
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues