Al-Risala · October 1980 · page 3

مشینی ذہانت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳

مشینی ذہانت

کمپیوٹر ایک قسم کی مشین ہے جس کو انتہائی طویل اور پیچیدہ حسابات کے حل کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہزاروں ریاضی داں مل کر جس حساب کو کئی دن میں حل کریں گے اس کو ایک کمپیوٹر حد درجہ صحت کے ساتھ ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں حل کر دیتا ہے۔ کمپیوٹر کے یہ کارنامے دیکھ کر بہت سے لوگوں نے سمجھا کہ اب سائنس اپنی ترقی کے اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ وہ "مشینی دماغ" کو تیار کر سکے۔ اس کا مطلب صرف یہی نہیں تھا کہ ایک چیز جو ابھی تک صرف قدرت کے کارخانہ میں بنتی تھی وہ انسانی کارخانوں میں تیار ہونے لگے گی ۔ اس کا ایک فلسفیانہ پہلو بھی تھا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ کائنات کے نظام کے لئے کسی شعوری وجود کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ ایک مشینی دماغ جس طرح نہایت صحت کے ساتھ مختلف واقعات کو رو نما کر سکتا ہے اسی طرح کائنات کا مشینی کارخانہ بھی، اپنے مشینی نظام کے تحت خود بخود چلا جا رہا ہے، اس سے ماورا کوئی شعوری ہستی نہیں جو اس کو چلانے والی ہو۔ تاہم گہرے مطالعہ اور تجربہ نے اس خوش فہمی کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ ایک ماہر نے لکھا ہے :

The question of artificial intelligence remains mainly unresolved. It is easy for instance, to design a computor which will learn as it goes along and thus come closer and closer to the brain. Nevertheless the lead must come from biological, and not mechanical, intelligence. Thus all these instruments radio- telescope, accelerators, spectrometers, computors- are merely adjuncts to the human brain. مصنوعی ذہانت کا مسئلہ بنیادی طور پر ابھی تک غیر حل شدہ ہے۔ مثال کے طور پر یہ آسان ہے کہ ایک ایسا کمپیوٹر بنایا جائے جو قریب قریب وہی کچھ کرنا سیکھ لے جو انسان کا دماغ کرتا ہے۔ تاہم اس کمپیوٹر کو رہنمائی دینا پھر بھی حیاتیاتی ذہانت کا کام رہے گا نہ کہ کسی مشینی ذہانت کا۔ اس طرح کمپیوٹر کی تمام اوزار محض انسانی دماغ کے لاحقے ہیں (ٹائمز آف انڈیا ، ۲۷ فروری ۱۹۸۰)

مشینی ذہانت کے بارے میں اس تجربہ نے ان لوگوں کو سخت مایوس کیا ہے جو یہ امید قائم کئے ہوئے تھے کہ انسان کو بھی اسی طرح ایک خود کار قسم کا مشینی حیوان ثابت کیا جا سکتا ہے، اور پھر خدا کو ماننے کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ مگر مشینی انسان کا اپنی کار کردگی کے لئے زندہ انسان کا محتاج ہونا ثابت کرتا ہے کہ انسان کی ہستی کی توجیہہ ایک بالا تر ہستی کو مانے بغیر ممکن نہیں۔ زندہ انسان کے بغیر مشینی انسان کا کوئی وجود نہیں، اسی طرح خدا کو تسلیم کئے بغیر انسان کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ مشینی ارتقا اپنے آپ تخلیقی ارتقا کی تردید کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page