اسلامی اخلاق
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۲
اسلامی اخلاق
اسلامی اخلاق دوسرے لفظوں میں خدائی اخلاق ہے۔ یعنی بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں اسی فیاضی اور وسعت کا معاملہ کرنا جو معاملہ ان کا خدا ان کے ساتھ کر رہا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کر لو اور بخش دو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (تغابن ۱۴) یعنی جب کسی سے تلخی یا ان بن ہو جائے تو تم وہ انداز اختیار کرو جو خدا کا انداز ہے۔ خدا آدمی کی غلطی کو معاف کرتا ہے اور کسی کی غلطی کی وجہ سے اپنی مہربانیاں اس سے اٹھا نہیں لیتا۔ یہی حال تمھارا ہونا چاہئے۔ تمھارے بارے میں کوئی شخص ایسی بات کہہ دے جس سے تم کو تکلیف پہنچ جائے، کوئی ایسا سلوک کرے جو تمھارے لئے شکایت کا باعث ہو تو محض اس وجہ سے تم اس کی طرف سے اپنے دل کو برا نہ کرو بلکہ غلطی کو نظر انداز کر کے اور شکایت کو بھلا کر اس سے معاملہ کرو۔
اسلامی اخلاقیات ایک لفظ میں وسعت ظرف کی اخلاقیات کا نام ہے۔ عام طور پر لوگوں کا اخلاق اس کے تابع ہوتا ہے کہ کسی نے ان کے بارے میں کیا کہا ہے اور کیا کیا ہے۔ مسلمان وہ ہے جو کسی نے کیا کہا اور کسی نے کیا کیا جیسی باتوں سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرے۔ اس کا اخلاق خدا کے حکم کے تحت بنا ہو نہ کہ ردعمل کی نفسیات کے تحت۔ اسلامی اخلاق کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ آدمی دوسرے کو نفع پہنچانے والا بنے، وہ دوسروں کے کام آئے۔ اور اگر کوئی شخص یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے کو نفع پہنچائے تو آخری درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو اپنی برائی سے بچائے۔ اس کی زبان اور اس کے ہاتھ پاؤں سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس کے بعد اسلامی اخلاق کا کوئی درجہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues