Al-Risala · October 1980 · page 13

سچائی کا اعتراف

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۳

سچائی کا اعتراف

سچائی دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ سچائی کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا ہے۔ خدا کی زمین پر سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ آدمی کے سامنے ایک سچائی آئے اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے ۔ ہر سچائی خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس لئے جس نے سچائی کو نہیں مانا اس نے خدا کو نہیں مانا۔ سچائی کوئی اجنبی چیز نہیں۔ وہ آدمی کی فطرت میں گندھی ہوئی ہے۔ وہ آدمی کے لئے ایک جانی پہچانی چیز ہے۔ پھر آدمی اس کا اعتراف کیوں نہیں کرتا۔ اس کی وجہ نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سچائی کو ماننے میں دنیوی مصلحتوں کا نظام ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ کبھی اعتراف کرتا آدمی سے یہ قیمت مانگتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اونچے مقام سے اتارنے پر راضی ہو جائے ۔ کبھی سچائی کو ماننے میں یہ وجہ مانع ہو جاتی ہے کہ جو شخص سچائی کو پیش کر رہا ہے وہ ایک معمولی آدمی ہے یا اس سے کوئی ذاتی کدورت پیدا ہو گئی ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی رکاوٹیں آدمی کے ذہن پر غلبہ پا لیتی ہیں۔ وہ ایک ایسی چیز کا انکار کر دیتا ہے جس کے بارے میں اگر وہ سنجیدہ ہو کر سوچے تو اس کا دل گواہی دے کہ بلاشبہ وہ حقیقت ہے۔

یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں خدا خود سامنے نہیں آتا۔ یہاں وہ سچائی کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ خدا کو سچائی کے لباس میں دیکھ لے اور اس کے آگے گر پڑے ۔ ہر بار جب کوئی سچائی ظاہر ہو تو گویا خدا نے اپنا جلوہ دکھایا۔ اس وقت جو شخص عناد اور گھمنڈ اور مصلحت پرستی میں پڑ کر سچائی کو نظر انداز کر دے اس نے خدا کو نظر انداز کیا۔ اس نے خدا کو نہ پہچانا۔ اس نے اپنے آپ کو خدا سے بڑا سمجھا۔ اس نے اپنے تقاضوں کو خدا کے تقاضے پر ترجیح دی۔ ایسا شخص آخرت میں سب سے زیادہ بے سہارا ہو گا۔ کیونکہ اس دن خدا اس کو نظر انداز کر دے گا ۔ اور جس کو خدا نظر انداز کر دے اس کے لئے زمین و آسمان میں کوئی ٹھکانا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page