Al-Risala · October 1980 · page 17

اللہ کارسول

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۷

درگزر کیا۔ اور اللہ بخشنے والا، تحمل والا ہے۔ ایسی ہی باتیں تم سے پہلے ایک جماعت نے پوچھیں۔ پھر وہ ان کے منکر ہو کر رہ گئے۔ اللہ نے بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ اور حام رتبوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور) مقرر نہیں کئے ۔ مگر جن لوگوں نے کفر کیا وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔ اور جب ان سے کہا جاناہے کہ اللہ نے جو کچھ اتارا ہے اس کی طرف آؤ اور رسول کی طرف آؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے بڑے نہ کچھ جانتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں۔ اے ایمان والو، تم اپنی فکر رکھو۔ کوئی گمراہ ہو تو اس سے تمہارا کچھ نقصان نہیں اگر تم ہدایت پر ہو۔ تم سب کو اللہ کے پاس لوٹ کر جاتا ہے پھر وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے تھے ۱۰۵ - ۱۰۱ روایات میں آتا ہے کہ جب حج کا حکم آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو تم پر حج فرض کیا گیا ہے۔ یہ سن کر قبیلہ بنی اسد کا ایک شخص اٹھا اور کہا : اے خدا کے رسول کیا ہر سال کے لئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر سخت غضب ناک ہوئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں کہہ دیتا ہاں تو ہر سال کے لئے فرض ہو جاتا اور جب فرض ہو جاتا تو تم لوگ ہر سال اس کو کرنے نہ پاتے اور پھر تم کفر کا ارتکاب کرگئے۔ پس جو میں چھوڑوں اس کو تم بھی چھوڑ دو۔ جب میں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو کرو اور جب میں کسی چیز سے روکوں تو اس سے رک جاؤ (تفسیر ابن کثیر)

غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو نزول قرآن کے وقت تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیا گیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیا جائے ۔ غیر ضروری سوالات قائم کر کے اس کی حدود و قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو حکم مجمل صورت میں ہے اس کو مفصل بنانا ، جو مطلق ہے اس کو مقید کرنا اور جو چیز غیر معین ہے اس کو معین کرنے کے در پے ہونا دین میں ایسا اضافہ ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے۔ کسی قوم کے جو گزرے ہوئے بزرگ ہوتے ہیں، زمانہ گزرنے کے بعد وہ مقدس حیثیت حاصل کر لیتے ہیں۔ اکثر گمراہیاں انھیں گزرے ہوئے لوگوں کے نام پر ہوتی ہیں۔ حتی کہ اگر وہ بکری اور اونٹ کی تعلیم کا رواج قائم کرتے ہوں تو اس کو بھی بعد کے لوگ سوچے سمجھے بغیر دہراتے رہتے ہیں۔ جس بگاڑ کی روایات ماضی کے تقدس پر قائم ہوں اس کی جڑیں اتنی گہری، جمی ہوئی ہوتی ہیں کہ اس سے لوگوں کو ہٹانا سخت دشوار ہوتا ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی کے اندر واقعی معنوں میں یہ یقین پیدا ہو جائے کہ بالآخر اس کو

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page