اللہ کارسول
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸
تذکیر القرآن المائدہ ۵ اے ایمان والو، تمہارے دومگویان گواہی وصیت کے وقت ، جب کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے ، اس طرح ہے کہ دو معتبر آدمی تم میں سے گواہ ہوں۔ یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور روہاں موت کی مصیبت آجائے‘ تو تمہارے غیروں میں سے دو گواہ لے لیے جائیں ۔ پھر اگر تم کو شبہ ہو جائے تو دونوں گواہوں کو نماز کے بعد روک لو اور وہ دونوں خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم کسی قیمت کے عوض اس کو نہ بیچیں گے خواہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔ اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بے شک ہم گنہگار ہوں گے۔ پھر اگر پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی حق تلفی کی ہے تو ان کی جگہ دو اور شخص ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کا حق پچھلے دو گواہوں نے مارنا چاہا تھا۔ وہ خدا کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ بر حق ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے ۔ اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔ یہ قریب ترین طریقہ ہے کہ لوگ گواہی ٹھیک دیں ، یا اس سے ڈریں کہ ہماری قسم ان کی قسم کے بعد الٹی پڑے گی ۔ اور اللہ سے ڈرو اور سنو۔ اللہ نافرمانوں کو سیدھی راہ نہیں چلاتا ایک آدمی سفر کرتا ہے اور اس کے ساتھ مال ہے۔ راستہ میں اس کی موت کا وقت آجاتا ہے ، اب اگر وہ اپنے قریب در مسلمان پائے تو ان کو اپنا مال دے دے اور اس کے بارے میں انھیں وصیت کر دے ۔ اگر دو مسلمان بروقت نہ ملیں تو غیر مسلموں میں سے دو آدمی کے ساتھ یہی معاملہ کرے ، یہ دو صاحبان مال لا کر اس کو وارثوں کے حوالے کریں ۔ اس وقت وارثوں کو اگر ان کے بیان کے بارے میں شبہ ہو جائے تو کسی نماز کے بعد مسجد میں ان گواہوں کو روک لیا جائے ۔ یہ دونوں شخص عام مسلمانوں کے سامنے قسم کھائیں کہ انھوں نے مرنے والے کی طرف سے جو کچھ کہا صحیح کہا۔ اگر وارث اس کے حلفیہ بیان پر مطمئن نہ ہوں تو وارثوں میں سے دو آدمی اپنی بات کے حق میں قسم کھائیں اور پھر ان کی قسم کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے ۔ وارثوں کو یہ حق دینا یا ایک ایسا روک قائم کرنا ہے کہ کوئی خیانت کرنے والا خیانت کرنے کی جرات نہ کر سکے ۔
شریعت میں ایک مصلحت یہ ملحوظ رکھی گئی ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں ایسے احکام دئے جائیں جو آدمی کی وسیع تر زندگی کے لیے سبق ہوں کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے مال کا حق داروں تک پہنچنا ایک خاندانی اور معاشی معاملہ ہے۔ مگر اس کو دو اہم باتوں کی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ ایک یہ کہ لوگوں میں یہ مزاج بنے کہ معاملات میں وہ تعلق اور رشتہ داری کا لحاظ نہ کریں بلکہ صرف حق کا لحاظ کریں ۔ وہ یہ دیکھیں کہ حق کیا ہے نہ یہ کہ بات کس کے موافق جا رہی ہے اور کس کے خلاف۔ دوسرے یہ کہ سرات کو خدا کا ڈر اہی سمجھنا۔ کو ذاتیات کو یا ساس سے وہ خدا کی ایک امانت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues