اللہ کارسول
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۹
کو جاننے والا تو ہی ہے۔ جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ بن مریم میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری ماں پر کیا جب کہ میں نے روح پاک سے تمہاری مدد کی۔ تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گو د میں بھی اور بڑی عمر میں بھی۔ اور جب میں نے تم کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی۔ اور جب تم مٹی سے پرندہ جیسی صورت میرے حکم سے بناتے تھے پھر اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی۔ اور تم اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے۔ اور جب تم مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روکا جب کہ تم ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ تو ان کے منکروں نے کہا یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے۔ 110-109 پیغمبروں پر جو لوگ ایمان لائے، بعد کے زمانہ میں سب کے اندر بگاڑ پیدا ہوا۔ انھوں نے اپنے طور پر ایک دین بنایا اور اس کو اپنے پیغمبر کی طرف منسوب کر دیا۔ اس کے باوجود ہر گروہ اپنے آپ کو اپنے پیغمبر کی امت شمار کرتا رہا۔ حالاں کہ پیغمبر کی اصل تعلیمات سے ہٹنے کے بعد اس کا پیغمبر سے کوئی تعلق باقی نہ رہتا تھا۔ یہودی اپنے کو حضرت موسیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور عیسائی اپنے کو حضرت عیسیٰ کی طرف۔ حالانکہ ان کے مروجہ دین کا خدا کے ان پیغمبروں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حقیقت موجودہ امتحان کی دنیا میں چھپی ہوئی ہے۔ مگر قیامت کے دن وہ کھول دی جائے گی۔ اس دن خدا تمام پیغمبروں کو اور اسی کے ساتھ ان کی امتوں کو جمع کرے گا۔ اس وقت امتوں کے سامنے ان کے پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنی امتوں کو کیا تعلیم دی اور امتوں نے تمہاری تعلیمات کو کس طرح اپنایا۔ اس طرح ہر امت پر اس کے پیغمبر کی موجودگی میں واضح کیا جائے گا کہ اس نے خدا کے دین کے معاملہ میں اپنے پیغمبر کی کیا کیا خلاف ورزی کی ہے اور کس طرح خود ساختہ دین کو ان کی طرف منسوب کیا ہے۔
انھیں پیغمبروں میں سے ایک مثال حضرت عیسیٰ کی ہے جو خاتم النبین اور آپ سے پہلے کے انبیار کی درمیانی کڑی ہیں۔ حضرت عیسیٰ کو انتہائی خصوصی معجزے دئے گئے۔ آپ پر ایمان لانے والے بہت کم تھے اور آپ کے مخالفین (یہود) کو ہر طرح کا دنیوی زور حاصل تھا۔ اس کے باوجود وہ حضرت عیسیٰ کا کچھ نقصان نہ کر سکے اور نہ آپ کے ساتھیوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان معجزات کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ لوگ آپ کے لائے ہوئے دین کو مان لیتے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ آپ کے مخالفین نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کر دیا کہ وہ جو معجزے دکھا رہے ہیں وہ سب جادو کا کرشمہ ہے۔ اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے، انھوں نے بعد کے زمانہ میں آپ کو خدائی کا درجہ دے دیا۔ قیامت کے دن آپ کی پیروی کا دعویٰ کرنے والوں کے سامنے یہ حقیقت کھول دی جائے گی کہ حضرت عیسیٰ نے جو کمالات دکھائے وہ سب خدا کے حکم سے تھے۔ آپ کے دشمنوں نے آپ کو جن خطرات میں ڈالا ان سے بھی اللہ ہی نے آپ کو بچایا۔ جب صورت حال یہ تھی اور حضرت عیسیٰ خود سامنے کھڑے ہو کر اس کی تصدیق کر رہے ہیں تو اب ان کے امتی بتائیں کہ انھوں نے آپ کی طرف جو دین منسوب کیا وہ کس نے انھیں دیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues