اللہ کارسول
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۳
اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے جونشانی بھی ان کے پاس آتی ہے وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ چنانچہ جو حق ان کے پاس آیا ہے اس کو بھی انھوں نے جھٹلا دیا۔ پس عنقریب ان کے پاس اس چیز کی خبریں آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا۔ ان کو ہم نے زمین میں جما دیا تھا جتنا تم کو نہیں جمایا۔ اور ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارش برسائی اور ہم نے نہریں جاری کیں جو ان کے نیچے بہتی تھیں پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے باعث ہلاک کر ڈالا۔ اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو اٹھایا۔ ۴۳-۴۸ خدا اور آخرت کی دعوت جو خدا کی براہِ راست تائید سے اٹھی ہو اس کے ساتھ واضح علامتیں ہوتی ہیں جو اس بات کا اعلان کررہی ہوتی ہیں کہ یہ ایک سچی دعوت ہے اور خدا کی طرف سے ہے۔ اس کا اس فطرت کے انداز پر ہونا جس پر خدا کی ابدی دنیا کا نظام قائم ہے۔ اس کا ایسے دلائل کی بنیاد پر اٹھنا جس کا توڑ کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ اس کی پشت پر ایسے داعی کا ہونا جس کی سنجیدگی اور اخلاص پر شبہ نہ کیا جاسکتا ہو۔ اس کے ساتھ ایسے تائیدی واقعات کا وابستہ ہونا کہ مخالفین اپنی برتر قوت کے باوجود اس کے خلاف اپنے تخریبی منصوبوں میں کامیاب نہ ہوئے ہوں۔ اس طرح کے واضح قرائن ہیں جو اس کے برحق ہونے کی طرف کھلا اشارہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود انسان اس پر یقین نہیں کرتا اور اس کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام تائیدی قرائن اپنی ساری وضاحت کے باوجود ہمیشہ اسباب کے پردہ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ آدمی کے سامنے جب یہ قرائن آتے ہیں تو وہ ان کو مخصوص اسباب کی طرف منسوب کرکے انھیں نظرانداز کر دیتا ہے، اس کا ذہن اعتراف کے رخ پر چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دعوت اگر خدا کی طرف سے ہوتی تو خدا اور فرشتے برہنہ صورت میں اس کے ساتھ موجود ہوتے۔ حالانکہ یہ خیال سراسر باطل ہے۔ کیونکہ خدا اور فرشتے جب برہنہ صورت میں سامنے آجائیں تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے نہ کہ دعوت اور تبلیغ کا۔
جن لوگوں کو زمین میں جماؤ حاصل ہو، جنھوں نے اپنے لئے معاشی ساز وسامان جمع کر لیا ہو جن کو اپنے آس پاس عظمت و مقبولیت کے مظاہر دکھائی دیتے ہوں وہ ہمیشہ غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد جمع شدہ چیزوں کے مقابلہ میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ لیتے ہیں جو داعی حق کے گرد خدا نے جمع کی ہیں۔ ان کی یہ خود اعتمادی اتنا بڑھتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بھی بے خوف ہوجاتے ہیں۔ وہ داعی حق کی اس تنبیہ کا مذاق اڑانے لگتے ہیں کہ تمھاری سرکشی جاری رہی تو تمھاری مادی ترقیاں تم کو خدا کی پکڑ سے نہ بچا سکیں گی۔ داعی حق کو نا چیز سمجھنا ان کی نظر میں داعی کی تنبیہات کو بھی ناچیز بنا دیتا ہے۔ ماضی کے وہ تاریخی واقعات بھی ان کو سبق دینے کے لئے کافی ثابت نہیں ہوتے جب کہ بڑے بڑے مادی استحکام کے باوجود خدا نے لوگوں کو اس طرح مٹا دیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی۔ زمین میں بار بار ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاں مکافات کا قانون نافذ ہے۔ مگر آدمی سبق نہیں لیتا۔ پہلے لوگ دوبارہ اسی عمل کو دہراتے ہیں جس کی وجہ سے اگلے لوگ برباد ہو گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues