اللہ کارسول
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۴
اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے جو معاملہ کا فیصلہ ہو جاتا، پھر انھیں کوئی مہلت نہ ملتی۔ اور اگر ہم کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے تو اس کو بھی آدمی بناتے اور ان کو اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ کہو، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا -11۔ دنیا میں آدمی کی گمراہی کا سبب یہ ہے کہ یہاں اس کو حق کے انکار کی پوری آزادی ملی ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے انکار کی خوبصورت توجیہہ کرسکے۔ امتحان کی اس دنیا میں اتنی وسعت ہے کہ یہاں الفاظ ہر اس مفہوم میں ڈھل جاتے ہیں جس میں انسان ان کو ڈھالنا چا ہے داعی اگر ایک عام انسان کے روپ میں ظاہر ہو تو آدمی اس کو یہ کہہ کر نظر انداز کر سکتا ہے کہ یہ ایک شخص کا قیاس یا ذاتی حوصلہ ہے نہ کہ کوئی حق و صداقت کا معاملہ۔ اسی طرح اگر آسمان سے کوئی لکھی لکھائی کتاب اتر آئے تو اس کو رد کرنے کے لئے بھی وہ یہ الفاظ پائے گا کہ یہ تو ایک جادو ہے۔
مکہ کے لوگ کہتے تھے کہ پیغمبر اگر خدا کی طرف سے اس کی پیغام بری کے لئے مقرر کیا گیا ہے تو اس کے ساتھ خدا کے فرشتے کیوں نہیں تو اس کی تصدیق کریں۔ اس قسم کی باتیں آدمی اس لئے کہتا ہے کہ وہ دعوت کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوتا۔ اگر وہ سنجیدہ ہو تو اس کو فوراً معلوم ہو جائے کہ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ امتحان اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ غیبی حقیقتوں پر پردہ پڑا ہوا ہو۔ اگر غیبی حقیقتیں کھل جائیں اور خدا اور اس کے فرشتے سامنے آجائیں تو پھر پیغمبری اور دعوت رسانی کا کوئی سوال ہی نہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کے بعد کسی کو یہ جرات ہی نہ ہوگی کہ وہ حقائق کا انکار کر سکے۔ موجودہ دنیا میں لوگ اپنی ظاہر پرستی کی وجہ سے خدا کے داعی کو اس کی باتوں کی عظمت میں نہیں دیکھ پاتے وہ اس کا اندازہ صرف اس کے ظاہری پہلو کے اعتبار سے کرتے ہیں اور ظاہری اعتبار سے غیر اہم پا کر اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ خدا کے داعی کا معاملہ ان کو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک معمولی آدمی اچانک اٹھ کر بہت بڑی حیثیت کا دعویٰ کرنے لگے۔
اس دنیا میں دعوت رسانی کا سارا معاملہ خدا کے قانون التباس کے تحت ہوتا ہے۔ یہاں حق کے اوپر ایک ریشہ کا ہے۔ اگر ایک آدمی اقرار کے دلائل کے ساتھ کچھ انکار کے وجوہ بھی پا سکتا ہو۔ آدمی کا اصل
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues