Al-Risala · October 1980 · page 26

اللہ کارسول

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۶

تذکیر القرآن الانعام ۶ اور اگر اللہ تجھ کو کوئی دکھ پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس کا دور کرنے والا نہیں۔ اور اگر اللہ تجھ کو کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اسی کا زور ہے اپنے بندوں پر۔ اور وہ حکمت والا سب کی خبر رکھنے والا ہے، تم پوچھو کہ سب سے بڑا گواہ کون ہے۔ کہو اللہ، وہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور مجھ پر یہ قرآن اترا ہے تاکہ میں تم کو اس سے خبردار کر دوں اور اس کو جسے یہ پہنچے۔ کیا تم اس کی گواہی دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں۔ کہو، میں اس کی گواہی نہیں دیتا۔ کہو، وہ تو بس ایک ہی معبود ہے اور میں بری ہوں تمہارے شرک سے ہمارے سامنے جو عظیم کائنات پھیلی ہوئی ہے اس کے مختلف اجزاء باہم اتنے زیادہ مربوط ہیں کہ یہاں کسی ایک واقعہ کو ظہور میں لانے کے لئے بھی پوری کائنات کی مساعدت ضروری ہے۔ اس بنا پر کوئی بھی انسان کسی واقعہ کو ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی انسان کائنات کے اوپر قابو یافتہ نہیں۔ یہاں ایک چھوٹی سی چیز بھی اس وقت وقوع میں آتی ہے جب کہ بے شمار عالمی اسباب اس کی پشت پر جمع ہو گئے ہوں ۔ اور خدا کے سوا کوئی نہیں جو ان اسباب پر حکمران ہو۔ کائناتی اسباب کے درمیان آدمی صرف ایک حقیر ارادہ کا مالک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کو کوئی سکھ ملے یا کسی کو کوئی دکھ پہنچے، دونوں ہی براہ راست خدا کی اجازت کے تحت ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی کا یہ سوچنا بھی حماقت ہے کہ وہ کسی کو آباد یا برباد کر سکتا ہے ۔ اور یہ بات بھی مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے کہ خدا کے سوا کوئی بھی ہے جس سے آدمی ڈرے یا خدا کے سوا کوئی ہے جس سے وہ اپنی امیدیں وابستہ کرے ۔ دنیا میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان جو کش مکش جاری ہے اس میں فیصلہ کن چیز صرف خدا کی کتاب ہے۔ خدا کے سوا کسی کو حقائق کا علم نہیں، اور خدا کے سوا کسی کو کسی قسم کا زور حاصل نہیں۔ اس لئے خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس جھگڑے میں واحد ثالث ہے۔ اور خدا نے قرآن کی صورت میں یہ ثالث لوگوں کے درمیان رکھ دیا ہے اب آدمی کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ اگر وہ قرآن کی صداقت سے بے خبر ہے تو وہ تحقیق کر کے جانے کہ کیا واقعۃً وہ خدا کی کتاب ہے۔ اور جب وہ جان لے کہ وہ فی الواقع خدا کی کتاب ہے تو اس کو لازماً اس کے فیصلہ پر راضی ہو جانا چاہئے، جو آدمی قرآن کے فیصلہ پر راضی نہ ہو وہ یہ خطرہ مول لے رہا ہے کہ آخرت میں رسوائی اور عذاب کی قیمت پر اس کو اس کے فیصلہ پر راضی ہونا پڑے۔

قرآن اس لئے اتارا گیا ہے کہ فیصلہ کا وقت آنے سے پہلے لوگوں کو آنے والے وقت سے ہوشیار کر دیا جائے۔ رسول نے یہی کام اپنے زمانہ میں کیا اور آپ کی امت کو یہی کام آپ کے بعد قیامت تک انجام دینا ہے۔ قرآن اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں لوگوں کا خدا لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ پہنچانے والے اس وقت اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاتے ہیں جب کہ وہ اس کو پوری طرح لوگوں تک پہنچا دیں مگر سننے والے خدا کے یہاں اس وقت سبک دوش ہوں گے جب کہ وہ اس کو مانیں اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کریں۔ داعی کی ذمہ داری "تبلیغ" پر ختم ہوتی ہے اور مدعو کی ذمہ داری "اطاعت" پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page