Al-Risala · October 1980 · page 37

اللہ کارسول

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۷

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے کو گھاٹے میں ڈالا وہ اس کو نہیں مانتے۔ اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے۔ یقیناً ظالموں کو فلاح نہیں ملتی۔ اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم کہیں گے ان شریک ٹھہرانے والوں سے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تم کو دعویٰ تھا۔ پھر ان کے پاس کوئی فریب نہ رہے گا مگر یہ کہ کہیں گے کہ اللہ اپنے رب کی قسم، ہم شرک کرنے والے نہ تھے۔ دیکھو کس طرح اپنے آپ پر جھوٹ بولے اور کھوئی گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے۔ ۲۴۔ ۲۰ حقیقت آدمی کے لئے جانی پہچانی چیز ہے۔ کیونکہ وہ آدمی کی فطرت میں پیوست ہے اور کائنات میں ہر طرف خاموش زبان میں بول رہی ہے۔ یہود و نصاریٰ کا معاملہ اس باب میں اور بھی زیادہ تھا کیونکہ ان کے انبیار اور ان کے صحیفے ان کو قرآن اور پیغمبر آخرالزمان کے بارے میں صاف لفظوں میں پیشگی خبر دے چکے تھے، حتیٰ کہ ان کے لئے اسے جاننا ایسا ہی تھا جیسا اپنے بیٹے کو جاننا۔ اس قدر کھلا ہوا ہونے کے باوجود انسان کیوں حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ وقتی نقصان کا اندیشہ ہے۔ حقیقت کو ماننا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑائی کے مقام سے اتارے، وہ تقلیدی ڈھانچہ سے باہر آئے، وہ ملے ہوئے فائدوں کو ترک کرے۔ آدمی یہ قربانی دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا اس لئے وہ حق کو بھی قبول نہیں کرتا۔ وقتی فائدے کی خاطر وہ اپنے کو ابدی گھاٹے میں ڈال دیتا ہے۔ اپنے اس موقف پر مطمئن رہنے کے لئے مزید یہ بات اس کو دھوکہ میں ڈالتی ہے کہ وہ امتحان کی اس دنیا میں ہمیشہ اپنے موافق توجیہات پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ وہ سچائی کے حق میں ظاہر ہونے والے دلائل کو رد کرنے کے لئے جھوٹے الفاظ پا لیتا ہے، حتیٰ کہ یہاں اس کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ حقیقت کی خود ساختہ تعبیر کر کے یہ کہہ سکے کہ سچائی عین وہی ہے جس پر میں قائم ہوں۔ جب بھی آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے تو دھیرے دھیرے ان چیزوں کے گرد تائیدی باتوں کا طلسم تیار ہو جاتا ہے۔ وہ موہوم آرزوؤں اور جھوٹی تمناؤں کا ایک خود ساختہ ہالہ بنالیتا ہے جو اس کو اس فریب میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اس نے بڑے مضبوط سہارے کو پکڑ رکھا ہے۔ مگر قیامت میں جب تمام پردے ہٹ جائیں گے اور آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا تمام سہارے بالکل جھوٹے تھے تو اس کے سامنے اس کے سوا کوئی راہ نہ ہوگی کہ وہ خود اپنی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگے۔ گویا اس قسم کے لوگ اس وقت خود اپنے خلاف جھوٹے گواہ بن جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page