کم بولنا اخلاص کی علامت ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴
سیکولر اور جمہوری قوتوں کو منظم کیجئے “ خیر پسند اور شر بیزار انسانوں کو پکارئے “ ووٹوں کی طاقت کو دباؤ کی سیاست کے لئے استعمال کیجئے “ جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ اپنی آواز بلند کیجئے “ اپنے حقوق کے لئے احتجاج اور مطالبات کی دھوم مچائیے “ ظالمانہ حکومت کو متحوہ طاقت سے اکھاڑ پھینکئے “ جمعہ کے روز مسجدوں اور مدرسوں میں یوم دعا منائیے “ لوگوں کے دلوں کے دروازہ پر دستک دیجئے “ ہر روز کاغذ کے لاکھوں ورق اس قسم کے الفاظ سے سیاہ ہو رہے ہیں۔ اور بے شمار لاؤڈ اسپیکر ہر دن ان کو فضا میں بکھیر رہے ہیں۔ مگر ان کوششوں سے اتنا فائدہ بھی حاصل نہیں ہوتا جتنا قوم کی جیب سے ان پر خرچ کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب الفاظ کی پہلوانی ہے اور الفاظ کی پہلوانی کسی قوم کو حقیقت کی دنیا کا سور ما نہیں بنا سکتی۔
فرض نماز کا وقت ہو جائے اور مسجد سے آواز بلند ہو: حی علی الصلوة (آؤ نماز کی طرف) تو اس وقت عبادت الہی کا مقام مسجد ہوتا ہے۔ ہر شخص کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ مسجد میں آکر اپنے عابد ہونے کا ثبوت دے۔ اس کے برعکس اگر ایک شخص ایسا کرے کہ عین اس وقت مسجد کے باہر میدان میں شامیانہ لگائے اور لاؤڈ اسپیکر پر فلسفہ عبادت“ کے موضوع پر لمبی تقریر شروع کر دے تو یہ اس کے عابد ہونے کا ثبوت نہ ہوگا بلکہ صرف ظالم ہونے کا ثبوت ہوگا۔ کیوں کہ اس وقت کسی کے لئے اپنے عابد ہونے کا ثبوت دینے کا مقام مسجد ہے نہ کہ جلسہ گاہ میں عبادت کے عنوان پر شاندار تقریر۔ اس قسم کی غیر مطلوب عبادت آج لوگوں کے اندر بہت بڑے پیمانہ پر جاری ہے۔ دور کے مظلومین“ کے بارے میں تجویزیں اور بیانات چھپ رہے ہیں۔ حالاں کہ مظلوموں سے ہمدردی کا ثبوت دینے کا مقام سب سے پہلے آدمی کا اپنا پڑوس ہے۔ دوسروں کو انسانیت اور اخلاق کا سبق دینے کے لئے کانفرنسیں منعقد کی جا رہی ہیں ۔ حالاں کہ انسانیت دوست اور با اخلاق حقیقۃً وہ ہے جو خود اپنے معاملات میں انسانی اور اخلاقی اصولوں کی پیروی کرے۔ ملت کو بچاؤ کا نعرہ ہر ایک لگا رہا ہے مگر فرد کو بچانے اور اس کے حقوق ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔ آدمی اپنے خدا پرست ہونے کا ثبوت وہاں دینا چاہتا ہے جہاں اس کی خدا پرستی ایک شان دار چیز بن کر لوگوں سے خراج تحسین حاصل کرے، حالاں کہ اس کا خدا جہاں اس کی خدا پرستی کا امتحان لینے کے لئے کھڑا ہوا ہے وہ مقامات دہ ہیں جہاں سب کچھ کر کے بھی آدمی کو کوئی عزت اور شہرت حاصل نہیں ہوتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues