Al-Risala · October 1980 · page 43

کم بولنا اخلاص کی علامت ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۳

بھروسہ کرتا ہے۔ اس کا خوفِ خدا اور اس کا اعتماد علی اللہ اس کی زندگی میں اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے والدین، اور یتیموں اور عام انسانوں کے بارے میں حد درجہ محتاط انسان بن جاتا ہے۔ رزق کے معاملہ میں وہ اپنے کو پوری طرح حلال دائرہ میں محدود رکھتا ہے۔ بیہودہ کام کرنا اس کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ کسی کو دینا ہو یا کسی سے لینا ہو ہر حال میں وہ انصاف پر قائم رہتا ہے۔ اس کی زبان کھلتی ہے تو سچائی کے لئے کھلتی ہے نہ کہ بے جا حمایت یا بے جا مخالفت کے لئے۔ اس کا تعلق باللہ اس کے اور خدا کے درمیان ایک خاموش عہدین جاتا ہے جس کو وہ کبھی نہ توڑے خواہ اس کے لئے اس کو اپنے آپ پر کتنا ہی جبر کرنا پڑے۔

یہ دین کی شاہراہ پر قائم ہونا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دین کی شاہراہ سے جدا ہونا یہ ہے کہ آدمی مذکورہ چیزوں میں نئی نئی شاخیں نکال کر ان کی دینی اہمیت ثابت کرے اور ان کی طرف دوڑنا شروع کر دے۔ مثلاً اس کا دل اللہ کی کبریائی کے جذبہ سے سرشار نہ ہو البتہ "رجال اللہ"، اور" اسلامی شخصیتوں" کے ساتھ والہانہ عقیدت کا اظہار اس کا محبوب مشغلہ بنا ہوا ہو۔ تنہائیوں میں اللہ کے ڈر سے اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے نہ ہوتے ہوں البتہ "لاؤڈ اسپیکر" کی سطح پر وہ خوب اللہ کے نام کی دھوم مچاتا ہو۔ عبادات میں انابت و تضرع پیدا کرنے کا دھیان اس کو نہ ہو البتہ مسائلِ عبادت میں طرح طرح کی موشگافیاں پیدا کرنے کا وہ ماہر بنا ہوا ہو۔ وہ اپنے صاحب معاملہ کے ساتھ انصاف نہ کرے البتہ خارجی دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرنے کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہ ہو البتہ دوسروں کے ظلم و بربریت کا اعلان کرنے میں سب سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہو۔ وہ اپنے پڑوسی کی مدد نہ کرے البتہ دور کے مسائل پر تقریر کرنے سے اس کی زبان کبھی نہ تھکتی ہو۔ اس کا دل اللہ کی یاد سے خالی ہو البتہ ذکر کے نام پر الفاظ کی تکرار کرنے میں لاکھوں کا عدد بھی اس کے لئے ناکافی ثابت ہو رہا ہو۔ اپنی نماز میں خشوع پیدا کرنے کی اسے فکر نہ ہو البتہ مسجدوں کی آرائش و زیبائش کا وہ خوب اہتمام کرتا ہو۔ اپنے کمزور دینی بھائی کے حقوق اس کو یاد نہ آئیں البتہ بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ اسلامی اخوت کا مظاہرہ کرنا وہ کبھی نہ بھولتا ہو۔ اپنے نفس کو خدا کے آگے جھکانے کا اسے شوق نہ ہو البتہ ساری دنیا کو خدا کے آگے جھکانے کا وہ مجاہد بنا ہوا ہو۔ اس قسم کی تمام صورتیں تفرق فی الدین کی صورتیں ہیں۔ ان کو خواہ جس نام پر بھی کیا جائے اور ان کے ساتھ کیسی ہی خوش فہمیاں وابستہ کی جائیں وہ خدا کے یہاں مقبولِ دین کی حیثیت سے رکھی نہیں جا سکتیں۔ دین کے راستہ سے متفرق ہونا ایسا ہی ہے جیسے پٹرین کا اپنی ٹری سے اتر جانا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی تجدیدِ ایمان کے نام پر اٹھے اور پھر فکر کی تصحیح اور اس کے طلسماتی خواص پر پوری تحریک چلا دے۔ وہ اسلام کو سر بلند کرنے کا دعویٰ کرے اور پھر سیاسی، کارروائیوں اور اجتماعی جلوسوں کے زہر کو دوڑائے۔ وہ دین کی تعلیم کو اپنا مقصد

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page