Al-Risala · November 1980 · page 3

اہل یثرب کا اسلام

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳

کعبہ کی زیارت کے ارادہ سے مکہ کا سفر کیا۔ یہاں ان کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ آپ نے ان کو بتایا کہ میں خدا کا نبی ہوں تم لوگ میری دعوت کو قبول کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے بعد معاً ان کو یاد آیا کہ یہود بہت دنوں سے ان سے کہا کرتے تھے کہ ایک نبی غلبہ والا ظاہر ہونے والا ہے۔ ہم اس کے ساتھ ہو کر تم کو شکست دیں گے اور تمھارے اوپر اپنا غلبہ قائم کریں گے۔ یثرب والوں نے کہا: اے لوگو، خدا کی قسم یہ تو وہی نبی ہیں جن کی خبر تم کو یہود دیتے تھے۔ دیکھو، وہ تم سے پہلے اس کی طرف سبقت نہ کرنے پائیں۔ چنانچہ انھوں نے آپ کی دعوت قبول کرلی۔ انھوں نے مزید کہا: ہم اپنی قوم کو چھوڑ کر آئے ہیں۔ ان میں جتنا شر و عداوت ہے اتنا کسی اور قوم میں نہیں۔ شاید اللہ آپ کے ذریعہ ان کو متحد کردے۔ ہم واپس جا کر اس دین کو ان کے سامنے پیش کریں گے جس کو ہم نے قبول کر لیا ہے۔ اگر اللہ نے ان کو اس دین پر جمع کر دیا تو آپ سے زیادہ اس ملک میں کوئی طاقت ور نہ ہوگا (سیرۃ ابن ہشام ، جزو ثانی، صفحہ ۳۸) تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد یثرب کے لوگ جوق در جوق اسلام لائے۔ وہ اسلام۔ انصار (مددگار) بن گئے۔ ان کی قربانی اور تعاون سے اسلام کو عرب میں غلبہ حاصل ہوا۔

یثرب کے لوگوں نے ہجرت سے پانچ سال پہلے آپ کی دعوت کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔ مگر پانچ سال بعد یہی لوگ آپ کے مومن بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلی ملاقات کے وقت ان کے ذہن میں جنگ کے خیالات بھرے ہوئے تھے۔ وہ سارے معاملہ کو اس نقطہ نظر سے دیکھتے تھے کہ ان کا ایک دشمن ہے اور اس دشمن کو انھیں شکست دینا ہے۔ ان کی نفسیات پر جنگ کے مسائل چھائے ہوئے تھے۔ اس ذہنی پس منظر میں خدا اور آخرت کی باتیں انھیں غیر متعلق بلکہ تباہ کن معلوم ہوتی تھیں۔ ان کو ایسا نظر آتا تھا گویا ان کو اصل محاذ سے ہٹایا جارہا ہے۔ مگر جب جنگ بعاث میں ساری طاقت خرچ کرنے کے بعد ان کے حصہ میں صرف تباہی آئی ۔ حتی کہ یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ یہود ان کو لڑا لڑا کر ان کی عرب نسل کا خاتمہ کردیں گے تو ان کا ذہن بدلنا شروع ہوگیا۔ اب وہ معاملہ کو جنگ سے وسیع تر دائرہ میں رکھ کر دیکھنے لگے۔ اب وہ جنگ کے بجائے امن، اختلاف کے بجائے اتحاد کی اصطلاحوں میں سوچنے لگے۔ ان کو نظر آیا کہ اصل مسئلہ اوس و خزرج کا نہیں بلکہ اوس و خزرج کے مقابلہ میں یہود کا ہے۔ اس کا حل انھیں یہ نظر آیا کہ ان کا ایک عقیدہ ہو جو قبائلی تفریق کو ختم کرے اور ان کے لئے نظریاتی اتحاد کی بنیاد فراہم کرے اور اسی کے ساتھ ایک شخصیت ہو جو ان کو باہم جوڑے اور ان کی مشترکہ قائد بن سکے۔ یہ دونوں چیزیں (نظریہ اور شخصیت) انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں مل گئیں اور انھوں نے لپک کر اس کو قبول کر لیا۔ اسی لئے حضرت عائشہؓ نے فرمایا بعاث کی جنگ ایک ایسی جنگ تھی جس کو اللہ نے اپنے رسول کی تائید کے لئے فراہم کیا تھا (کان یوم بعاث یوما قدمه الله تعالى لرسوله)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1980 All issues

Printed page