Al-Risala · November 1980 · page 2

اہل یثرب کا اسلام

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲

اہل یثرب کا اسلام

قدیم یثرب (مدینہ) میں دو عرب قبیلے اوس اور خزرج آباد تھے۔ اسی کے ساتھ وہاں چند یہودی قبیلے بھی تھے۔ یہود نے اوس و خزرج کو باہم لڑا رکھا تھا تاکہ وہ یہود کے مقابلہ میں کمزور رہیں اور ان کی مضبوط جمعیت بننے نہ پائے اور اس طرح یہود کی بالاتری ان کے اوپر قائم رہے۔ ہجرت نبوی سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ قبیلہ خزرج یہودیوں کے ابھارنے سے اوس کے خلاف آمادہ جنگ ہو گیا۔ قبیلہ اوس کے ایک سردار ابوالحیسر انس بن رافع چند آدمیوں کو لے کر مکہ آئے تاکہ اپنے حریف کے مقابلہ میں قریش کی مدد حاصل کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آمد کا علم ہوا تو آپ ان کے پاس گئے اور ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی ۔ ان کے وفد کے ایک نوجوان ایاس بن معاذ اس سے متاثر ہوئے اور انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ خدا کی قسم اس سے بہتر ہے جس کے لئے تم آئے ہو (ہذا واللہ خیر مما جئتم بہ) مگر ان کے ساتھیوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکی۔ ابوالحیسر انس بن رافع نے اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر ایاس بن معاذ کے چہرہ پر پھینکی اور کہا: ان باتوں کو رہنے دو، میری زندگی کی قسم ہم تو اس کے علاوہ کسی اور کام کے لئے آئے ہیں (دعنا منك فلعمری لقد جئنا لغیر هذا)

اوس کا وفد اسلام قبول کئے بغیر یثرب واپس چلا گیا۔ اس کے بعد اوس اور خزرج کے درمیان وہ جنگ ہوئی جو جنگ بُعاث کے نام سے مشہور ہے۔ اس وقت دونوں قبیلوں کے درمیان دشمنی اتنی بڑھ گئی تھی کہ ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ دوسرے قبیلہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دے۔ اس جنگ میں پہلے خزرج نے اوس کو شکست دی۔ اس کے بعد اوس نے اپنے سردار ابو اسید کی قیادت میں خزرج کو شکست دی۔ دونوں نے باری باری ایک دوسرے کو زبردست نقصانات پہنچائے۔ حتیٰ کہ ایک نے دوسرے کے باغات اور مکانات جلا ڈالے۔ دونوں عرب قبیلے خود ہی اپنے ہاتھوں کمزور ہو کر رہ گئے۔

اس جنگ کا فائدہ براہ راست یہود کو پہنچا۔ انھوں نے یثرب میں برتری کا مقام حاصل کر لیا۔ جب جذبات ٹھنڈے ہوئے تو دونوں قبائل کے سنجیدہ لوگوں کو احساس ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے ۔ اپنے کو خود اپنے ہاتھوں ہلاک کر کے دشمن کو موقع دے دیا کہ وہ ان کے اوپر غلبہ حاصل کرے۔ دونوں قبیلوں کے باشعور لوگوں نے طے کیا کہ وہ اپنے اختلافات کو بھول جائیں اور مشترکہ طور پر اپنا ایک بادشاہ مقرر کر لیں جو ان کے معاملات کا نظم کرے۔ اس کے لئے عبداللہ بن ابی خزرجی کا انتخاب ہوا جو ایک صاحبِ شخصیت آدمی تھا اور اپنے اندر قائدانہ اوصاف رکھتا تھا۔ عین اسی زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1980 All issues

Printed page