کم بولنا اخلاص کی علامت ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۵
کی نفسیات سے بلند نہیں کیا ہے تو اقتدار پانے کے بعد وہ اپنے سابق دشمنوں کو ہلاک کرنا شروع کر دیں گے۔ حتیٰ کہ فوج اور انتظامیہ کے اعلیٰ تربیت یافتہ افراد کو ختم کر کے ملک کو اتنا کمزور کر دیں گے کہ ملک کو سنبھالنا ہی ناممکن ہو جائے۔ اگر انہوں نے اپنے اندر برداشت کی قوت پیدا نہیں کی ہے تو وہ ہر اس شخص یا گروہ سے لڑائی چھیڑ دیں گے جس سے ان کے نفس کو چوٹ لگے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام کے غلبہ کے بعد خود اسلام کا اصل کام (بندگان خدا کو خدا سے جوڑنا) بدستور آن ہوا پڑا رہ جائے گا۔ جو شخص جذبات سے بے قابو ہو جائے وہ ایک خرابی کو مٹانے کے نام پر ایسا اقدام کرے گا جس سے کئی شدید تر خرابیاں پیدا ہو جائیں۔ جب بھی کسی کی طرف سے ناپسندیدہ بات سامنے آتی ہے تو آدمی صرف ایک بات سوچتا ہے : یہ مخالف ہے، اس کو کچل ڈالو۔ مگر یہ انسان کا بہت ناقص اندازہ ہے۔ خدا نے انسانی نفسیات میں بے حد لچک رکھی ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان ایک حالت پر قائم نہیں رہتا بلکہ بدلتا رہتا ہے۔ اور برداشت کا مطلب اسی انسانی امکان کا انتظار کرنا ہے۔ شریعت میں صابرانہ طریق کار کی تلقین اسی لئے کی گئی ہے کہ اس آنے والے وقت کو آنے کا موقع دیا جائے جب کہ ”آج“ کے انسان کے اندر چھپا ہوا ”کل“ کا انسان برآمد ہو جائے۔
بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جو فی الواقع سوچ سمجھ کر کسی چیز کے مخالف بنتے ہیں۔ بیشتر لوگوں کی مخالفت محض اضافی اسباب کی بنا پر ہوتی ہے۔ کبھی ایک آدمی محض غلط فہمی کی بنا پر کسی چیز کا مخالفت بن جاتا ہے۔ کبھی وقتی تقاضے کسی شخص کو آپ کے بالمقابل محاذ میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ کبھی حیثیت اور منصب کے مصنوعی مسائل آدمی پر اتنا غالب آتے ہیں کہ وہ کسی بات کے اعتراف سے رک جاتا ہے۔ کبھی کسی کے اختلاف کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ معاملہ کو ایک رخ سے دیکھ رہا ہے اور آپ اس کو دوسرے رخ سے دیکھ رہے ہیں۔ اس قسم کے اختلافات حقیقی اختلافات نہیں ہوتے۔ وہ محض حالات کے تابع ہوتے ہیں اور حالات کے بدلنے کے ساتھ ہمیشہ بدل جاتے ہیں۔
تاہم کچھ مخالفین ایسے ہوتے ہیں جو اپنی مخالفت میں جارحیت کی حد تک جاتے ہیں۔ وہ سازش کرتے ہیں، وہ تخریب کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اور امتحان کی اس دنیا میں بہر حال ان کو بھی اسی طرح عمل کی آزادی حاصل ہے جس طرح کسی دوسرے کو حاصل ہے۔ ایسے لوگوں سے مقابلہ کی بہترین تدبیر یہ ہے کہ جھنجھلاہٹ کے بجائے صبر اور حکمت کے ساتھ اپنا راستہ نکالا جائے ۔ کسی گروہ کی بے صبری اور غیر دانش مندی اس کے دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ سب سے زیادہ نادان وہ ہے جو خود اپنی طرف سے دشمن کو یہ ہتھیار فراہم کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues