صبر کا طریقہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۶
صبر کا طریقہ
فساد کا کوئی سبب پیدا ہو تو اس وقت ایک طریقہ صبر کا ہے اور دوسرا طریقہ اشتعال کا۔ ایسے موقع پر مشتعل ہونا فساد کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن کو قابو میں رکھ کر سوچا جائے اور صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے تو مسئلہ جہاں تھا وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں ہم چند واقعات لکھتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ صبر کا طریقہ اختیار کرنا کس طرح فساد کی آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔
۱۔ غالباً ۱۹۷۹ء کی بات ہے۔ دارالعلوم ندوہ (لکھنؤ) کے قریبی محلہ میں ایک غیر مسلم کی گائے تھی۔ ایک مقامی مسلمان نے کسی وجہ سے گائے کو مارا۔ اتفاق سے چوٹ کسی نازک مقام پر لگ گئی اور گائے مرگئی۔ غیر مسلم حضرات کو جب معلوم ہوا کہ ان کی گائے ایک مسلمان نے مار ڈالی ہے تو پورے علاقہ میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ سیکڑوں کی تعداد میں غیر مسلم لوگ جمع ہو گئے۔ سب سے قریبی مسلم مرکز ندوہ تھا۔ وہ لوگ ندوہ میں گھس آئے اور اشتعال انگیز نعرے لگانے لگے۔
یہ بڑا نازک وقت تھا۔ اندیشہ تھا کہ وہ لوگ ندوہ کو آگ لگا دیں اور پھر سارے شہر میں فساد برپا ہو جائے۔ ندوہ کے ذمہ داروں نے اس موقع پر مشورہ کیا۔ طے ہوا کہ اس مشتعل مجمع کو ٹھنڈا کرنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ گائے کے قاتل کو مجمع کے حوالے کر دیا جائے۔ اگر چہ یہ ایک خطرناک کام تھا مگر شہر کو آگ اور خون سے بچانے کی کوئی دوسری تدبیر ممکن نہ تھی۔ چنانچہ ذمہ دار حضرات مذکورہ مسلمان کے پاس گئے جو غالباً ندوہ کے ایک کمرہ میں چھپا ہوا تھا۔ اس سے کہا کہ اس وقت ندوہ اور سارا شہر خطرہ میں ہے۔ مگر ان کا سارا غصہ تمھاری وجہ سے ہے۔ اگر وہ تم کو پا جائیں تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔ اگر چہ یہ تمھارے لئے ایک خطرہ کی بات ہے۔ تاہم امید ہے کہ اللہ کی مدد حاصل ہوگی اور تم کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ آخر کار وہ راضی ہو گیا۔ اور نکل کر مجمع کے سامنے آگیا۔ اس نے کہا کہ آپ کی گائے میں نے ماری ہے اس لئے آپ میرے ساتھ جو چاہیں کریں۔ البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ میں نے مارنے کی نیت سے نہیں مارا تھا بلکہ اس کو بھگانے کے لئے مارا تھا۔ اتفاق کی بات تھی کہ وہ مرگئی۔ مجمع نے جب گائے کے قاتل کو دیکھا اور اس کی باتیں سنیں تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ وہ لوگ جو ندوہ کو پھونکنے اور اور شہر کی مسلم آبادی کو ویران کرنے پر تلے ہوئے تھے وہ صرف اتنی سی بات پر راضی ہو گئے کہ گائے کا قاتل گائے کی قیمت ادا کر دے۔ قیمت فوراً ادا کر دی گئی اور مسئلہ اسی وقت ختم ہو گیا۔
۲۔ فیروز جھجھر کا ضلع گوڑگاؤں (ہریانہ) کا ایک قصبہ ہے۔ قصبہ میں تقریباً تمام دکانیں غیر مسلم حضرات کی ہیں۔ مگر اطراف کے تمام دیہاتوں میں مسلمانوں (میواتیوں) کی اکثریت ہے۔ فیروز پور کے بازار میں زیادہ تر یہی مسلمان خریداری کرتے ہیں۔ ۱۹۸۰ء کے آغاز میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک غیر مسلم خاندان کی لڑکی گھر سے غائب ہو گئی۔ لوگوں کو شبہ ہوا کہ کچھ مسلم نوجوانوں نے ایسا کیا ہے۔ چنانچہ غیر مسلم حضرات نے کافی شور و غل کیا۔ پولیس میں رپورٹ کر کے کچھ مسلمانوں کو گرفتار کرایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues