Al-Risala · October 1980 · page 15

پتھر سے پانی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۵

پتھر سے پانی

روس کے کچھ ماہرین نے تجربہ کر کے بتایا ہے کہ پتھر کو نچوڑ کر اس سے پانی نکالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کے چند میٹر نیچے سے پتھر کی چٹان کا ایک ٹکڑا کاٹ کر نکالئے اور اس کو دھیات کے گلاس میں رکھئے پھر اس کے اوپر دس ٹن فی مربع سینٹی میٹر کے حساب سے دباؤ ڈالئے ۔ اس کے بعد پتھر سے پنیال پانی سے قطرے ٹپکنا شروع ہو جائیں گے۔

یہ قدرت کی ایک نشانی ہے جو ہم کو سبق دیتی ہے کہ اس دنیا میں ہمارے لئے کیا کیا امکانات رکھ دئے گئے ہیں۔ پتھر“ ایک خشک چیز ہے۔ مگر پتھر جیسی خشک چیز بھی اس وقت پانی ٹپکانے لگتی ہے جب کہ اس کو استعمال کیا جائے اور اس کے ساتھ وہ عمل کیا جائے جو مطلوب ہے۔ ایک مسلمان نے شہر میں اپنا مکان بنایا۔ ان کے قریب ہی ایک اور شخص نے گھر بنایا جو کہ دوسرے فرقہ سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ ایک ٹھیکیدار آدمی تھا اور بہت تیز تھا۔ مسلمان کے گھر اور ٹھیکیدار کے گھر کے درمیان ایک زمین تھی جس کے بارے میں دونوں میں جھگڑا شروع ہو گیا ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ یہ زمین میری ہے۔ ٹھیکیدار نے دیکھا کہ وہ تنہا اپنا مطالبہ منوانے میں کامیاب نہیں ہو رہا ہے، وہ شہر کے فرقہ پرست عناصر کے پاس گیا اور ان کو خوب ورغلایا۔ یہاں تک کہ ایک روز فرقہ پرستوں کی ایک بھیڑ مسلمان کے مکان کے سامنے جمع ہو گئی اور شر انگیز نعرے لگانے لگی۔

مسلمان اپنے گھر سے باہر نکلا تو صورت حال کا اندازہ کرنے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ یہ لوگ شر پسندی پر آمادہ ہیں اور اگر ذراسی بھی کوئی اشتعال انگیز بات ہوئی تو جلانے اور پھونکنے کی سطح پر اتر آئیں گے۔ اس نے کہا، آپ میں نمائندہ کون لوگ ہیں، وہ باہر آجائیں تاکہ ان سے بات کی جاسکے۔ چنانچہ چار پانچ لیڈر قسم کے آدمی سامنے آگئے مسلمان ان کو اپنے دفتر میں لے گیا۔ جب وہ لوگ سکون کے ساتھ کرسیوں پر بیٹھ گئے تو اس نے کہا کہ بات بہت مختصر سی ہے اور اس کا فیصلہ بہت آسانی سے ہو سکتا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ دیکھئے زمین کا غذ پر ہوتی ہے زمین کا فیصلہ کاغذ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے، جو کا غذات میرے پاس ہیں وہ میں آپ کو دے دیتا ہوں۔ اور جو کا غذات ٹھیکیدار صاحب کے پاس ہیں وہ بھی آپ ان سے لے لیں۔ آپ دونوں کا غذات کو دیکھ لیجئے۔ اس کے بعد آپ جو فیصلہ کر دیں مجھ کو منظور ہے، یہ سنتے ہی فرقہ پرست لیڈروں کا ذہن بالکل ٹھنڈا پڑ گیا۔ ہر ایک نے کہا کہ ” یہ تو بہت معقول آدمی ہے یہ سارا فیصلہ خود ہمارے حوالے کر رہے ہیں“ اس کے بعد انھوں نے چند دن کا غذات دیکھنے میں گزارے اور بالآخر خود مسلمان کے حق میں زمین کا فیصلہ کر دیا۔ فرقہ پرست عناصر ابتداً ر یتھر تھے۔ مگر مسلمان نے جب ان کے اوپر معقولیت کا دباؤ ڈالا تو پتھر سے پانی ٹپکنا شروع ہو گیا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues

Printed page