صبر کا طریقہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸
کرنے کی لازمی شرط صبر ہے۔ واقعہ خواہ کتنا ہی خلاف مزاج ہو مگر دانش مندی یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر آدمی مشتعل نہ ہو۔ مشتعل آدمی کی عقل کھوٹی جاتی ہے۔ وہ کسی معاملہ کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتا اس لئے وہ اس کو دفع کرنے کی صحیح منصوبہ بندی بھی نہیں کر سکتا۔
اس کے بعد انتہائی ضروری ہے کہ آدمی مشورہ کرے۔ مشورے سے بیک وقت دو فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں کئی آدمیوں کی سوچ اور تجربات شامل ہو جاتے ہیں۔ اس لئے معاملہ کو زیادہ وسعت کے ساتھ سمجھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس میں متاثر ذہن کے ساتھ غیر متاثرہ ذہن کی رائے بھی شامل ہو جاتی ہے۔ اس لئے جو فیصلہ ہوتا ہے وہ ٹھنڈے ذہن سے سوچا سمجھا فیصلہ ہوتا ہے نہ کہ مغلوب ذہن کے تحت کیا ہوا فیصلہ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ یک طرفہ الزام بازی کا طریقہ ہرگز اختیار نہ کیا جائے۔ بلکہ فیاضی کے ساتھ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا جائے۔ انسان کی یہ نفسیات ہے کہ اگر وہ دیکھتا ہے کہ مقابل کا آدمی اپنی غلطی کو نہیں مان رہا ہے تو اس کے متعلق اس کے اندر انتقام کے جذبات امڈتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر آدمی دیکھے کہ اس کا حریف اپنی غلطی کو کھلے دل سے مان رہا ہے تو اچانک اس کے اندر رحم اور عفو کے جذبات امڈ آتے ہیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ غلطی کا اعتراف کر کے اس نے اپنی سزا آپ دے لی ہے، اب میں مزید سزا سے کیا دوں یہ بھی حد درجہ ضروری ہے کہ قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں باقاعدہ قانون کی حکومت قائم ہو وہاں قانون اپنے ہاتھ میں لینا اپنے کو مجرم کی صف میں کھڑا کرنا ہے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر آدمی اپنے آپ کو بیک وقت دو فریقوں کا مد مقابل بنا لیتا ہے۔ ایک وہ شخص جس نے کوئی شر کیا تھا، اور دوسرے ملک کا انتظامیہ۔ اس کے برعکس اگر آپ معاملہ کو فوراً انتظامی ذمہ داروں کے حوالے کر دیں تو آپ درمیان سے ہٹ جاتے ہیں۔ اب سارا معاملہ شر پسند اور انتظامیہ کے درمیان ہو جاتا ہے۔ آخری ضروری چیز اتحاد ہے۔ کوئی بھی اجتماعی تدبیر اجتماعی طاقت ہی سے کامیاب ہوتی ہے اور اتحاد ہی کا دوسرا نام اجتماعی طاقت ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات بخوبی سمجھ لینا چاہئے کہ اتحاد اس طرح کبھی نہیں ہوتا کہ تمام لوگوں کی رائیں ایک ہو جائیں۔ ایسا اتحاد موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔ اتحاد دراصل اختلاف رائے کے باوجود متحد ہونے کا نام ہے نہ کہ اختلاف رائے نہ ہونے پر متحد ہونے کا۔ اگر ہم اپنے حریف کے مقابلہ میں موثر بننا چاہتے ہیں تو ہم کو رائے کی قربانی دینے پر تیار ہونا پڑے گا۔ رائے کی قربانی ہی پر اتحاد قائم ہوتا ہے اور جہاں اتحاد موجود ہو وہاں کسی شریک کی شرارت کا کوئی گزر نہیں۔
تدبیر وہی ہے جو خاموش تدبیر ہو۔ کسی ناخوش گوار صورت حال کے پیش آنے کے بعد جب آدمی شور و غل کرنے لگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جذبات سے مغلوب ہو گیا ہے۔ اور جذبات سے مغلوب انسان کبھی کوئی گہری تدبیر سوچ نہیں سکتا۔ گہری تدبیر گہرے غور و فکر سے حاصل ہوتی ہے، جب کہ شور و غل آدمی کو اس قابل ہی نہیں رکھتا کہ وہ کسی معاملہ میں گہرائی کے ساتھ غور کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues