قدرت کا سبق
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۹
قدرت کا سبق
جانوروں کے دو سب سے بڑے مسئلے ہیں ۔ غذا اور دفاع ۔ جانوروں میں ایک دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں اور ہر جانور کو مستقل طور پر اپنے بچاؤ کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ جانوروں میں اپنے بچاؤ کے جو طریقے رائج ہیں وہ انسان کے لئے بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ حیوانات کا طریقہ دراصل قدرت کا طریقہ ہے۔ حیوانات جو کچھ کرنے ہیں اپنی جبلت کے تحت کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر، وہ براہ راست قدرت کے سکھائے ہوئے ہیں۔ جانور گویا قدرت کے مدرسہ میں تربیت پائے ہوئے طالب علم ہیں۔ ان کا عمل قدرت کا بتایا ہوا سبق ہے۔ ان کے طریق کار کو پیدا کرنے والے کی تصدیق حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں ۔
۱۔ ہاتھی اور شیر جنگل کے دو سب سے بڑے جانور ہیں۔ اگر دونوں میں ٹکراؤ ہو جائے تو یہ ٹکراؤ دونوں کے لئے مہلک ہوتا ہے، ہاتھی اور شیر دونوں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ اس لئے وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ایک دوسرے سے کتر اک نکل جائیں ۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ دونوں یہ نوبت آنے دیں کہ ان کے درمیان براہ راست جنگ شروع ہو جائے ۔ دو ایسے حریفوں کی جنگ جن میں دونوں میں سے کوئی دوسرے کو فنا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو ہمیشہ دو طرفہ تباہی پر ختم ہوتی ہے۔ اور شیر اور ہاتھی اپنی زندگی میں اس کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہیں۔ ۲۔ یہی معاملہ سانڈ کا ہے۔ دو سانڈ ( بھینسے یا بیل) اگر ایک دوسرے سے لڑ جائیں تو اس کا بہت کم امکان ہے کہ ایک دوسرے کو ختم کر دے ۔ سانڈرا ایسے بے فائدہ ٹکراؤ سے بچنے کے لئے یہ تدبیر کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے حدود بانٹ لیتے ہیں۔ دو سانڈ ایک علاقہ میں پہنچ جائیں تو چلتے چلتے جب کسی مقام پر دونوں کی مڈبھیڑ ہوتی ہے تو دونوں ایک دوسرے کو سینگ مار کر علامتی طور پر اظہار کرتے ہیں کہ یہاں سے ایک طرف تمھارا علاقہ ہے اور یہاں سے دوسری طرف میرا علاقہ ۔ اس علامتی ٹکراؤ کے بعد دونوں اپنے پیچھے کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور اس کے بعد دونوں مکمل طور پر اس سرحدی تقسیم کی پابندی کرتے ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ دو سانڈ آپس میں لڑ جائیں ۔ ۳۔ آپ نیلی گھوڑی یا بیر بہوٹی کو چھوئیں تو وہ پاؤں سمیٹ کر بے حس و حرکت زمین پر پڑ جائے گی۔ بہت سے جانوروں کے لئے اپنے دشمن سے بچنے کا یہ آسان طریقہ ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ دشمن سر پر آ گیا ہے اور اس سے بھاگنا ممکن نہیں ہے تو وہ اپنے کو بے حس و حرکت بنا لیتے ہیں۔ ان کا دشمن ان کو دیکھتا ہے مگر وہ مردہ سمجھ کر ان کو چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے کو غیر موجود ظاہر کر کے اپنے کو دشمن سے بچا لیتے ہیں اور جب دشمن ہٹ جاتا ہے، تو بھاگ جاتے ہیں۔ ۴۔ جو جانور بلوں کے اندر رہتے ہیں ان کے لئے ہمیشہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ ان کا دشمن ان کی بل کے اندر گھس جائے اور دشمن سے وہ اس طرح گھر جائیں کہ بل کے محدود رقبہ کی وجہ سے وہ بھاگ نہ سکیں۔ چنانچہ بل والے جانور ہمیشہ اپنی بل میں ایک عقبی گزرگاہ رکھتے ہیں جو ہنگامی حالات میں کام آسکے ۔ جب بلی کوئی جانور دیکھتا ہے کہ سامنے کے سوراخ سے اس کا دشمن اس کے گھر میں گھس آیا ہے، وہ پیچھے کے سوراخ سے نکل کر باہر بھاگ جاتا ہے اور
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues