فسادات کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۳
خواہ کتنی ہی تلخ یادیں ہوں، زندگی کے روزمرہ کے مسائل ان پر غالب آجاتے ہیں۔ برادرانِ وطن کے معاملہ میں اس عمل کی اور بھی زیادہ اہمیت ہے کیونکہ ”زر“ ان کے نزدیک معبود کا درجہ رکھتا ہے۔ ان کا ہر آدمی سب سے زیادہ جس چیز کو پانا چاہتا ہے وہ دولت ہے۔ ان کی خوش قسمتی سے تلک میں دولت حاصل کرنے کے تمام بڑے ذرائع پر ان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے حتیٰ کہ خود مسلمان ان کی دولت کی فراہی کے عمل میں ایک معادن پرزہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ اس ملک میں فساد کے خلاف سب سے بڑا روک ہے۔ کیونکہ فساد کاروبار کے سارے نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ پھر جن لوگوں کا اصل مقصد پیسہ کمانا ہو وہ اپنے ملے ہوئے مقصد کو خود اپنے ہاتھوں ویران کرنا کیوں پسند کریں گے۔
مراد آباد کی مثال لیجئے جہاں اگست ۱۹۸۰ میں بھیانک فساد ہوا۔ مراد آباد ایک صنعتی شہر ہے، یہاں سے سالانہ تقریباً ۶۰ کروڑ روپے کا سامان تیار ہو کر باہر جاتا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ سامان بنانے کا کام سب کا سب مسلمان کرتے ہیں۔ مگر کاروبار عملاً دوسرے فرقہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خام مال کی سپلائی اور تیار شدہ سامان کی فروخت دونوں کام کا تقریباً ۹۰ فی صد حصہ دوسرے فرقہ کے قبضہ میں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کارخانوں میں دھوئیں اور گندگی کے درمیان ساری مشقت مسلمان اٹھاتے ہیں اور دوسرا فرقہ ان کی محنت کے بل پر کروڑوں روپے کما رہا ہے۔ ایک زمر پرست قوم کو اس کا مطلوب جب اتنے شان دار طریقہ پر مل رہا ہو تو وہ آخر فساد کیوں چاہے گی۔ وہ بازار کو ویران کر کے اپنے ملتے ہوئے فائدے کو بھنگ کس لئے کرے گی۔ اس کے باوجود اس ملک میں فساد ہوتا ہے۔ حتی کہ ۱۸۷۹ء سے لے کر اب تک تقریباً ہزار فسادات ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ وہ یہ کہ ہر آدمی دو آدمی ہوتا ہے۔ ایک غصہ دلانے سے پہلے، دوسرا غصہ دلانے کے بعد ۔ بظاہر سیدھا سادا آدمی بھی غصہ میں آنے کے بعد بھیٹریا بن جاتا ہے۔ یہ فرق ہر آدمی میں پایا جاتا ہے۔ پھر جب کسی اشتعال انگیز واقعہ کے بعد اس شخص یا گروہ کا ”دوسرا انسان‘‘ جاگ اٹھتے جس کے اندر فریق ثانی کے لئے پہلے سے نفرت کے اسباب چھپے ہوئے تھے اور وہ اس کے مقابلہ میں طاقتور بھی ہو تو اس کے بعد وہ جو کچھ کرے گا وہ وہی ہوگا جس کا نمونہ ہم پچھلے ۳۵ سال سے دیکھ رہے ہیں۔
زر پرستی آدمی کے اندر انفرادیت پیدا کرتی ہے۔ اس لئے ایک شخص کی طرف سے کسی کے خلاف ابتدائی اشتعال کا واقعہ پیش آنے کے بعد بھی شاید ایسا نہ ہوتا کہ ایک فرقہ میں عمومی سطح پر اشتعال و انتقام کی فضا پیدا ہو جائے ۔ مگر یہاں بقیہ کی سیاسی لیڈر پوری کر دیتے ہیں۔ ہر بار جب الیکشن ہوتا ہے تو فطری طور پر کوئی جیتتا ہے اور کوئی ہارتا ہے۔ اب جو ہارنے والے لیڈر ہیں وہ اس تاک میں رہتے ہیں کہ کوئی موقع ملے تو اس کو ہوا دے کر عمومی فساد کرا دیں۔ تاکہ ایک طرف جیتی ہوئی حکمراں پارٹی کو بدنام کیا جائے اور دوسری طرف ان ووٹرو کو سزا دی جائے جنھوں نے ان کو ووٹ نہیں دیا۔ اور بدقسمتی سے یہ ” ووٹ نہ دینے والے‘‘ اکثر مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ اگر ہر فساد نہیں تو اکثر فساد کے پیچھے یہی الیکشنی سیاست کار فرما ہوتی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں لوگ اپنی مرضی کے خلاف فیصلہ قبول کرنے پر راضی نہ ہوں،
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues