فسادات کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۲
شہر کی ایک عمارت میں ایک مسلمان نے نیچے کا حصہ کرایہ پر لیا۔ کچھ دن کے بعد اس نے محسوس کیا کہ چھت ٹپک رہی ہے ۔ اوپر کے حصہ میں جو صاحب رہتے تھے ۔ ان کا غسل خانہ ٹپکنے لگا تھا۔ مستقل پانی کا ٹپکنا ایک مصیبت تھا۔ مزید یہ کہ یہ گندا پانی تھا، کیونکہ غسل خانہ اور بیت الخلاء دونوں ایک ساتھ ملے ہوئے تھے۔ نیچے والے نے اوپر والے سے کہا تو انھوں نے کوئی توجہ نہ دی۔ اس کے بعد اس نے محلہ والوں سے کہا اور اپنی مصیبت ان کو دکھائی۔ مگر انھوں نے بھی کوئی درد مندی ظاہر نہ کی ۔ ایک شخص نے کہا ” بھائی ، ہمارے شہر کا رواج تو یہ ہے کہ جس کے سر پر ٹپکے وہ بنوائے۔ کرایہ دار نے کہا کہ یہ تو کوئی بات نہیں ۔ اصول یہ ہونا چاہئے کہ ” جو ٹپکائے وہ بنوائے“، مگر اس نے محسوس کیا کہ اس کے دلائل بے زور ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ سارے لوگ مسلماں ہی تھے۔ اس نے قرآن وحدیث کے احکام سنائے مگر قرآن وحدیث کے الفاظ بھی ان کے دل کو پگھلانے کے لئے کافی ثابت نہ ہوئے۔ کچھ دوستوں نے مشورہ دیا کہ تم ان کے خلاف نوٹس دو اور مقدمہ قائم کرو۔ مگر اس نے غور کیا تو مقدمہ کے اخراجات اور اس کی مدت اتنی زیادہ تھی کہ عملاً اس کے لئے اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ بالآخر اس نے اپنے پاس سے خرچ کر کے خود اس کو بنوا دیا۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی کیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ ذاتی معاملہ میں ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ اس بحث میں نہیں پڑتا تاکہ کون صحیح ہے اور کون غلط ۔ وہ جانتا ہے کہ موجودہ دنیا میں دلیل سے زیادہ کمزور کوئی چیز نہیں۔ دلیل سے خواہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کسی کو ملزم ثابت کر دیا جائے عملاً اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ آج کی دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے جو دلیل کے آگے اپنے کو جھکا دے۔ اس سلسلہ میں مسلمان اور غیر مسلمان حتی کہ دین دار اور بے دین کا بھی کوئی فرق نہیں ۔ یہ بات اپنے ذاتی معاملہ میں ہر شخص جانتا ہے۔ اس لئے جب کوئی ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر ” پانی اپنے سر پرٹپکتا ہے “ تو وہ فوراً جان لیتا ہے کہ دلیل اور بحث سے کوئی فائدہ نہیں ۔ وہ اپنے آپ پر ذمہ داری لیتے ہوئے فوراً یہ کرتا ہے کہ معاملہ کو خود درست کر لیتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ زندگی کا یہی سادہ اصول ملت کے معاملہ میں کوئی شخص اپنانے کے لئے تیار نہیں۔ ملت کا سوال آتے ہی ہر شخص اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ وہ فریق ثانی کو ملزم ثابت کرے۔ یہ سنگین واقعہ بھی لوگوں کے جوش میں کوئی کمی نہ کر سکاکہ ۳۵ سالہ کوشش کے باوجود ابھی تک اس طریق عمل کا کوئی فائدہ نہیں نکلا۔
یہ صورت حال اتفاقاً نہیں۔ اس کے گہرے اسباب ہیں۔ دوسرے کو ملزم ٹھہرانا سب سے آسان کام ہے اور خود ذمہ داری قبول کرنا اس کے مقابلہ میں اتناہی مشکل ہے۔ دوسرے کو ملزم ٹھہرانا ہو تو الفاظ بول کر ذمہ داری ادا ہو جاتی ہے۔ مگر جب آدمی خود ذمہ داری قبول کرے تو پھر عمل اور جد وجہد کے طویل تقاضے سامنے آجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے قائدین صرف الفاظ بول کر قیادت کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں ۔ وہ کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اگر وہ فی الواقع کرنے کی تڑپ رکھتے تو ان کا انداز بالکل دوسرا ہوتا۔
زندگی کا راز یہ ہے کہ حالات کے اندر موجود عوامل کو استعمال کیا جائے۔ اور حالات کے غیر معمولی بگاڑ کے باوجود یہاں ایسے عوامل موجود ہیں جن کو ہم اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دو فریقوں کے درمیان
‹ Previous page Next page › Contents of October 1980 All issues