Al-Risala · September 1980 · page 36

جو اپنے کو چھوٹا جانے وہی اللہ کے نزدیک بڑا ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۶

انہیں مقامات پر زیادہ ہوتے ہیں جہاں انہیں کسی قدر معاشی اعتماد حاصل ہے۔ اسی طرح مسلمان اور غیر مسلمان کے تصادم بھی اکثر انھیں مقامات پر پیش آتا ہے جہاں مسلمان عددی اور اقتصادی اعتبار سے اپنے کو محفوظ سمجھتے ہوں۔ مذکورہ اسلامی ہدایت کی روشنی میں دیکھیے تو فساد کے خلاف ہماری موجودہ تمام سرگرمیماں بالکل عبث قرار پاتی ہیں۔ کیونکہ یہ ہدایت ربانی کے خلاف ہیں۔ خدا اور رسول کا حکم ہے کہ اپنے آدمی کو ابتدائی شرارت کے وقت پکڑو۔ مگر ہمارے تمام قائدین صرف اس وقت متحرک ہوتے ہیں جب کہ فساد بڑھ کر اپنی عمومی بربادی تک پہنچ چکا ہو۔ ابتدائی چنگاری دینے والے کا ہاتھ پکڑنے کے لئے کوئی نہیں اٹھتا۔ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ستاتا ہے تو کوئی بھی موقع پر پہنچ کر ظالم مسلمان کا ہاتھ نہیں پکڑتا۔ حالانکہ اس قسم کے مظلوم مسلمان اکثر منفی جذبات کا شکار ہو کر ایسی کارروائیاں کرتے ہیں جس کی سزا پورے معاشرہ کو بھگتنی پڑتی ہے۔ اسی طرح جب ایک غیر مسلم سے شکایت پیدا ہونے پر ایک مسلمان اس کے خلاف تخریبی منصوبہ بناتا ہے۔ جب کچھ مسلمان غیر مسلموں کے سامنے یہ بے معنی مطالبہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہماری نماز کے وقت اپنی عبادت گاہ کی گھنٹیاں نہ بجاؤ یا مسجد کے سامنے سے اپنا جلوس نہ لے جاؤ تو ان مواقع پر مسلمانوں میں سے کوئی نہیں اٹھتا جو ایسے سر پھرے مسلمانوں کو روکے اور ان کو اس قسم کے "برے" افعال سے باز رکھے ۔ البتہ جب ایک شخص کی برائی اپنا رد عمل ظاہر کر کے عمومی تباہی تک پہنچ چکی ہوتی ہے تو ساری مسلم قیادت میدان میں آجاتی ہے اور ہر ایک چاہتا ہے کہ وہ دوسرے سے آگے بڑھ جائے۔ یہ طریقہ سراسر اسلامی ہدایت کے خلاف ہے اور جو طریقہ اسلامی ہدایت کے خلاف ہو اس کا کوئی نتیجہ خدا کی اس دنیا میں ظاہر نہیں ہو سکتا۔ خدا چاہتا ہے کہ ہم "انفرادی فساد" کے وقت متحرک ہوں مگر ہمارے تمام لیڈر صرف "اجتماعی فساد" کے وقت متحرک ہوتے ہیں۔ یہ خدا کے بتائے ہوئے راستے کے بجائے خود ساختہ راستہ پر چلنا ہے اور خود ساختہ راستہ پر چلنا خدا کے غضب کو دعوت دینا ہے نہ کہ خدا کی نصرت کو اپنی طرف کھینچنا۔

ہمارے درمیان بے شمار تحریکیں اور جماعتیں قائم ہیں۔ ہر ایک دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا مقصد ہے: فسادات کا سد باب، ملت کا تحفظ ، نظام صالح کا قیام ، انسانیت کی پیغام رسانی، وغیرہ۔ یہ تحریکیں اور جماعتیں بڑے بڑے جلسے کرتی ہیں، الفاظ کے طوفان برپا کرتی ہیں۔ ان کے میمورنڈم اور بیانات اور تجویزوں سے گدام کے گدام بھر چکے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ لفظی مہم سے کبھی کوئی عملی واقعہ بر آمد نہیں ہوتا، یہ سب کچھ جو کیا جاتا ہے فسادات کے بعد کیا جاتا ہے ۔ ابتدائی چنگاری کو بجھانے کے لئے ان میں سے کوئی بھی نہیں دوڑتا۔ حالانکہ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ہر جماعت اور تحریک اور تمام اصلاح پسند شخصیتیں اپنے قریبی ماحول میں اپنے بھائیوں کی مسلسل نگرانی کریں۔ جہاں کوئی ایسا واقعہ ہو کہ ایک مسلمان کسی دوسرے پر کسی قسم کی دست درازی کرے، خواہ وہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہو یا مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان، فوراً کچھ لوگ اس آدمی تک پہنچیں۔ علاقہ کے ذمہ دار لوگوں کو جمع کریں اور اس کی شرارت کو وہیں کا وہیں ختم کر دیں۔ مسلمان اگر ابتدائی موقع پر اس حرکت اور حساسیت کا ثبوت دیں جس کا مظاہرہ وہ فساد کے بعد کرتے ہیں تو فساد کی جڑ کٹ جائے اور کبھی اس ملک میں کوئی فساد نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page