جو اپنے کو چھوٹا جانے وہی اللہ کے نزدیک بڑا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۲۷
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فسادات ہمیشہ سازش کے تحت ہوتے ہیں اور یہ سازش کچھ فرقہ پرست اورفسطائی جماعتیں کرتی ہیں۔ ان جماعتوں کا یہی مشن ہے اور اسی مقصد کے تحت انھوں نے اپنے آدمیوں کو تیار کر رکھا ہے۔ بالفرض یہ بات صحیح ہو تب بھی میں کہوں گا کہ یہ دنیا مقابلہ کی جگہ ہے۔ یہاں بہرحال ایسا ہوگا کہ ایک دوسرے کے خلاف تدبیریں کرے گا۔ اس لئے اصل کام ایسی جماعتوں کا انکشاف کرکے ان کے خلاف چیخ پکار کرنا نہیں ہے بلکہ خاموش منصوبے کے تحت ان کی کاٹ کے لیے اپنے کو مستعد کرنا ہے۔ تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہرگز وہ کے خلاف اس کا حریف تدبیریں کرتا ہے اور ہر تدبیر کو دانش مندی کے ساتھ ختم کیا جاسکتا ہے۔ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے لئے ہر طرف میدان خالی ہو اور ان کے خلاف کوئی "سازش" کرنے والا کہیں موجود نہ ہو ان کو خدا کی اس دنیا کو چھوڑ کر کوئی دوسری دنیا اپنے لیے بنانی چاہئے۔ کیونکہ خدا نے اپنی دنیا جس قانون کے تحت بنائی ہے وہاں تو یہی ہوگا ۔ پیغمبروں کے لئے بھی خدا نے اس معاملہ میں استثناء نہیں رکھا۔ پھر ہمارے لئے استثناء کیسے ہوسکتا ہے۔ سابق اہل کتاب کی مثال اب اس سلسلہ میں ایک زور آیت کا مطالعہ کیجئے ۔ سورہ بقرہ میں یہود کو خطاب کرکے ارشاد ہوا ہے : ہم نے تم سے عہد لیا تھا کہ تم اپنوں کا خون نہ بہاؤ گے اور اپنے لوگوں کو گھر سے بے گھر نہ کرو گے۔ تم نے اس کا اققرار کیا اور تم خود اس کے گواہ ہو۔ پھر تم ہی وہ ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو۔ ان کے خلاف گناہ اور زیادتی کر کے ان کے دشمنوں کی مدد کرتے ہو۔ پھر اگر وہ تمھارے پاس قیدی ہوکر آتے ہیں تو ان کا فدیہ دے کر چھڑاتے ہو۔ حالانکہ ان کا نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔ کیا تم کتاب الہی کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور اس کے دوسرے حصہ کا انکار کرتے ہو۔ پس تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ان کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں رسوا ہوں اور آخرت کے دن سخت ترین عذاب کی طرف پھیر دئے جائیں اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو (بقره ۸۵ - ۸۴)
قدیم مدینہ میں دو عرب قبیلے (اوس اور خزرج) آباد تھے۔ اس کے علاوہ کچھ یہودی قبیلے (بنو نضیر، بنو قریظہ ، بنو قینقاع) تھے جو باہر سے آکر یہاں بس گئے تھے۔ ان یہودی قبائل نے اپنے تعصبات اور قومی اغراض کے تحت عرب قبیلوں سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ عرب قبائل جب باہم لڑتے تو یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے مشترک حلیفوں کے ساتھ مل جاتے اور اس طرح دو عرب محاذوں میں شریک ہوکر ایک یہودی قبیلہ دوسرے یہودی قبیلہ سے جنگ کرتا ۔ ہجرت نبوی سے چند سال پہلے مدینہ میں جنگ بعاث ہوئی جو مدینہ کے مشترک قبائل کی باہمی جنگ تھی۔ اس جنگ میں یہود کے قبیلہ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے اُوس کا ساتھ دیا اور بنو قینقاع نے خزرج کا۔ اس طرح اوس اور خزرج کی باہمی جنگ میں خود یہودی بھی باہم ایک دوسرے کے خلاف لڑپڑے۔
اس قسم کی باہمی مقابلہ آرائی سراسر شریعت الہی کے خلاف تھی۔ مگر جب جنگ ختم ہوتی تو دونوں طرف کے یہودی لیڈر" امدادی کام شروع کر دیتے تاکہ ملت یہود کے جہاد کرنے کا ثواب بھی انھیں مل جائے ۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues