Al-Risala · September 1980 · page 31

سنجیدہ ہونا ضروری ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۱

سنجیدہ ہونا ضروری ہے

ایک صاحب اپنے بچوں کے لئے بہت سخت تھے۔ ہمیشہ ڈانٹ ڈپٹ کرتے تھے۔ کبھی کسی نے ان کو اپنے بچوں کے ساتھ نرمی سے بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ لڑکے ان سے اس قدر ڈرتے تھے کہ ان کے سامنے کوئی بولنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ جب وہ گھر میں داخل ہوتے تو تمام بچے خاموش ہو کر ادھر ادھر دب جاتے۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ وہ گھر میں داخل ہوئے۔ سیڑھی کو طے کرکے جب وہ اپنے مکان کی چھت پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ ان کا ایک بچہ بجلی کے پول سے لپٹا ہوا ہے۔ بجلی کے تار میں ایک پتنگ پھنس گئی تھی۔ پتنگ کو حاصل کرنے کے شوق میں لڑکا بارجہ کا سہارا لے کر پول پر چڑھ گیا۔ ابھی اس کا کام پورا نہیں ہوا تھا کہ اس کے باپ آگئے نگاہیں ملتے ہی بچہ سہِم گیا مگر بالکل خلافِ معمول باپ نے کوئی سخت بات نہیں کہی بلکہ نہایت نرم لہجہ میں بولے ”بیٹے تم وہاں کہاں“ اس کے بعد انھوں نے محبت کے انداز میں لڑکے کو ترغیب دی کہ وہ آہستہ آہستہ اترے اور بارجہ کا سہارا لے کر دوبارہ گھر میں آجائے۔ بعد کو ایک شخص سے انھوں نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا : میں نے مسکرا کر اور نرم لہجہ میں اس لئے بات کی کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں اس نازک موقع پر ڈائنٹتا ہوں تو وہ گھبرا اٹھے گا اور پول سے چھوٹ کر نیچے سڑک پر جاگرے گا۔ اس نزاکت نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنی عادت کے خلاف بچہ سے میٹھے انداز میں بات کروں۔

یہی مثال ملی مسئلہ پر بھی چسپاں ہوتی ہے۔ اگر آدمی کو صورتِ حال کی نزاکت کا احساس ہو اور وہ اس کے لئے درد مند ہو تو اس کی درد مندی خود ہی مجبور کرے گی کہ وہ اشتعال کے بجائے برداشت کا طریقہ اختیار کرے، وہ تصادم کے بجائے بچ نکلنے کی تدبیر کرے۔ ”کون صحیح ہے اور کون غلط“ کی بحث میں پڑنے کے بجائے وہ مسئلہ کے حل کے پہلو پر دھیان دے۔ اور اگر اس کو نزاکت کا احساس نہ ہو تو وہ اپنی عام عادت کے مطابق ”بچہ“ کو پول پر دیکھ کر بگڑ اٹھے گا خواہ اس کا یہی انجام کیوں نہ ہو کہ لڑکا ۳۰ فٹ کی بلندی سے سڑک پر جاگرے اور اس کی ہڈی پسلی چور ہو جائے‘۔

ساری تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ جب آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ ہو تو اس کا انداز اور ہوتا ہے اور جب وہ سنجیدہ نہ ہو تو اس کا انداز بالکل دوسرا ہوتا ہے۔ کوئی دلیل اس شخص کے لئے دلیل ہے جو سنجیدہ ہو۔ سنجیدہ آدمی ہی کسی بات کے وزن کو محسوس کرتا ہے۔ سنجیدہ آدمی ہی کسی مسئلہ کی نزاکتوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص سنجیدہ نہ ہو وہ ہر دلیل کی کاٹ کے لئے کچھ نہ کچھ الفاظ بول دے گا۔ ہر قیمتی بات کو سن کر ایک غیر متعلق بحث چھیڑ دے گا۔ اور اگر اس کی بات کا جواب دے کر بات کو از سرِ نو واضح کیا جائے تو وہ وضاحت کے خلاف دوبارہ کوئی بحث نکال لے گا۔ اندر اصل بات بدستور اس کی گرفت سے دور رہ جائے گی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی دلیل اسی کے لئے دلیل ہے جو اس کو سمجھنا چاہے جو سمجھنا نہ چاہے اس کے لئے کوئی دلیل دلیل نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page