جو اپنے کو چھوٹا جانے وہی اللہ کے نزدیک بڑا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰
بول کردہ دوبارہ انھیں سطحی طریقوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں جو بار بار تجربہ کے بعد اپنی ناآنامی ثابت کر چکے ہیں۔ اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج کا مسلمان یا تو فراریت کی باتوں کو قبول کرتا ہے یا تضادم کی باتوں کو۔ سارے مسلمان انھیں دو میں سے کسی طریقہ کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ تعمیر واستحکام کا طریقہ کسی طرح ان کے فکری سانچہ میں نہیں بیٹھتا۔ لیکن اگر ہم مزید اپنی قوتیں برباد کرنا نہیں چاہتے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنے اس انداز کو بدلیں اور حقائق کی روشنی میں کوئی نتیجہ خیز پروگرام اپنے لئے بنائیں ۔
۱۔ فسادات کو ختم کرنے کے لئے سب سے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو با شعور اور تعلیم یافتہ بنایا جائے تاکہ ان کی جذباتیت ختم ہو، وہ جانیں کہ کس موقع پر انھیں کس قسم کا رد عمل ظاہر کرنا چاہئے ۔ فسادات میں مسلمان کروڑوں روپے چندے دیتے ہیں ۔ اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ فساد کا آغاز ہمیشہ ان لوگوں کی کسی حرکت سے ہوتا ہے جو جاہل یا بیروزگار ہیں تو اس رقم کا بہترین مصرف یہ ہوگا کہ قوم کے جاہل لوگوں کو تعلیم بنایا جائے اور جو لوگ بے روزگار ہیں ان کو کسی نہ کسی معاشی کام میں مصروف کر دیا جائے ۔ قوم کو مشغول اور با شعور بنا کر زیادہ بہتر طور پر فسادات کا سد باب کیا جا سکتا ہے۔ یہ گویا فساد کو اس زمین سے محروم کرنا ہے جس پر اس کا خار دار درخت اگتا ہے ۔
۲ ۔ ہمارے لکھنے اور بولنے والے آج سب سے زیادہ جس کام میں مصروف ہیں وہ یہ کہ قوم کو جذباتیت کی شراب پلائی جائے اور نتیجہ عوام کے درمیان سستی مقبولیت حاصل کی جائے۔ یہ سلسلہ قطعا بند ہو جانا چاہئے۔ اس کے بجائے ہمارے قلم اور زبان کی طاقت کو تمام تر اس مقصد پر لگ جانا چاہئے کہ قوم کے افراد میں صبر اور حقیقت پسندی اور باہمی اتحاد کا جذبہ پیدا ہو۔ کسی قوم کی طاقت کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد سنجیدہ انداز میں سوچنا جانتے ہوں نہ یہ کہ ان کو پر شور الفاظ کا مظاہر کرنے میں کمال حاصل ہو۔
۳۔ ہر جگہ کے مسلمان اس کو اپنی ذمہ داری سمجھیں کہ جب بھی کوئی شخص شرارت کرے ، خواہ وہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہو یا مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان ، فوراً موقع پر پہنچ کر شریر کا ہاتھ پکڑا جائے ۔ فساد کے اجتماعی سطح پر پھیلنے سے پہلے اس وقت اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے جب کہ وہ ابھی انفرادی سطح پر ہوتا ہے اور آسانی اس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فسادات ہونے کے بعد شور و غل کرنا جتنا بے معنی ہے اتنا ہی یہ معنی یہ ہے کہ فساد سے پہلے انفرادی جھگڑوں اور شکایتیوں کو دور کرنے میں طاقت صرف کی جائے ۔
۴۔ قوم کے عمل کے جذبہ کو دعوت تبلیغ کے کام کی طرف موڑنے کی کوشش کی جائے۔ ہر مسلمان اپنے مزاج کے اعتبار سے مجاہدانہ مزاج کا حامل ہوتا ہے۔ یہ ایک مطلوب چیز ہے۔ مگر بد قسمتی سے اس مجاہدانہ مزاج کا استعمال سیاسی شور و غل اور باہمی اختلافات میں ہورہا ہے۔ اس مجاہدانہ مزاج کے اظہار کا اصل میدان اللہ کے دین کو پھیلانا ہے اور اس کے لئے پر امن جد و جہد کرنا ہے۔ اگر مسلمانوں کے مجاہدانہ مزاج کو دعوت و تبلیغ کی طرف موڑ دیا جائے تو بیشتر لڑائیاں اور اختلافات اسی طرح ختم ہوجائیں گے جیسے ایک بے کار آدمی ادھر اُھر جھگڑتا پھرتا ہو اور اس کے بعد اچانک اس کو ایک اچھا روزگار ہاتھ آجائے اور وہ ساری خرابادات کو ختم کر کے اپنے روزگار میں لگ جائے (۲۶ ستمبر ۱۹۸۰)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues