Al-Risala · September 1980 · page 41

یہ اسلام نہیں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۱

اور تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے۔ پھر ہم نے ان کو پکڑ سخت میں اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑگڑائیں، پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ وہ گڑگڑائے۔ بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان ان کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کر کے دکھاتا رہا۔ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر خوش ہو گئے جو انہیں دی گئی تھی تو ہم نے اچانک ان کو پکڑ لیا۔ اس وقت وہ نا امید ہو کر رہ گئے۔ پس ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا اور ساری تعریف اللہ کے لئے ہے، تمام جہانوں کا رب ۴۵۔ ۴۴ آدمی کے سامنے ایک حق آتا ہے اور وہ اس کو نہیں مانتا تو اللہ اس کو فوراً انہیں پکڑتا۔ بلکہ اس کو مالی نقصان اور جسمانی تکلیف کی صورت میں کچھ جھٹکے دیتا ہے تاکہ اس کی سوچنے کی صلاحیت بیدار ہو اور وہ اپنے رویہ کے بارے میں نظر ثانی کرے، زندگی کے حوادث محض حوادث نہیں ہیں، وہ خدا کے بھیجے ہوئے محسوس پیغامات ہیں جو اس لئے آتے ہیں تاکہ غفلت میں سوئے ہوئے انسان کو جگائیں۔ مگر آدمی اکثر ان چیزوں سے نصیحت نہیں لیتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کو مطمئن کر لیتا ہے کہ یہ تو آثار چڑھاؤ کے واقعات ہیں اور اس قسم کے آثار چڑھاؤ زندگی میں آتے ہی رہتے ہیں۔ اس طرح ہر موقع پر شیطان کوئی خوش نما توجیہہ پیش کرکے آدمی کے ذہن کو نصیحت کے بجائے غفلت کی طرف پھیر دیتا ہے۔ آدمی جب بار بار ایسا کرتا ہے تو حق و باطل اور صحیح و غلط کے بارے میں اس کے دل کی حسّاسیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ قسادت (بے حسی) کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔

جب آدمی خدا کی طرف سے آئی ہوئی تنبیہات کو نظر انداز کر دے تو اس کے بعد اس کے بارے میں خدا کا انداز بدل جاتا ہے۔ اب اس کے لئے خدا کا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر آسانیوں اور کامیابیوں کے دروازے کھولے جائیں۔ اس پر خوش حالی کی بارش کی جائے ۔ اس کی عزت و مقبولیت میں اضافہ کیا جائے۔ یہ در حقیقت ایک سزا ہے جو اس لئے ہوتی ہے تاکہ اس کا اندر اور زیادہ باہر آ جائے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آدمی مطمئن ہو کر اپنی بے حسی کو اور ٹرے ھالے، وہ حق کو نظر انداز کرنے میں اور زیادہ ڈھیٹ ہو جائے اور اس طرح خدا کی سزا کا استحقاق اس کے لئے پوری طرح ثابت ہو جائے۔ جب یہ مقصد حاصل ہو جائے تو اس کے بعد اچانک اس پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کو دنیوی زندگی سے محروم کر کے آخرت کی عدالت میں حاضر کر دیا جاتا ہے تاکہ اس کی سرکشی کی سزا میں اس کے لئے جہنم کا فیصلہ ہو۔

یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ یہاں ہر قسم کی بڑائی اور تعریف کا حق صرف ایک ذات کے لئے ہے۔ اس لئے جب کوئی شخص خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو نظر انداز کر دیتا ہے تو وہ دراصل خدا کی نافرمانی کرتا ہے۔ وہ خدا کی عظمتوں کی دنیا میں اپنی عظمت قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ ایسا ظلم کرتا ہے جس سے بُرا کوئی ظلم نہیں۔ وہ اس خدا کے سامنے گستاخی کرتا ہے جس کے سامنے عجز کے سوا کوئی اور رویہ کسی انسان کے لئے درست نہیں۔ سور

‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues

Printed page