یہ اسلام نہیں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۲
تذکیر القرآن الانعام ۶ کہو، یہ بتاؤ کہ اللہ اگر چھین لے تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو اس کو واپس کو واپس لائے۔ دیکھو ہم کیوں کر طرح طرح سے نشانیاں بیان کرتے ہیں پھر بھی وہ اعراض کرتے ہیں۔ کہو، یہ بتاؤ اگر اللہ کا عذاب تمھارے اوپر اچانک یا علانیہ آجائے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہوگا۔ اور رسولوں کو ہم صرف خوش خبری دینے والے یا ڈرانے والے کی حیثیت سے بھیجتے ہیں۔ پھر جو ایمان لایا اور اپنی اصلاح کی توان کے لئے نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غم گین ہوں گے۔ اور جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا توان کو عذاب پکڑے گا اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ کہو، میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کو جانتا ہوں اور نہ میں تم سے کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ کہو، کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔ کیا تم غور نہیں کرتے ۵۰ - ۴۶ آدمى کو کان اور آنکھ اور دل جیسی صلاحیتیں دینا ظاہر کرتا ہے کہ اس کا خالق اس سے کیا چاہتا ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ آدمی بات کو سنے اور دیکھے، وہ عقلی دلیل سے اس کو مان لے۔ اگر آدمی اپنی ان خداداد صلاحیتوں سے وہ کام نہ لے جو اس سے مقصود ہے تو گویا وہ اپنے کو اس خطرہ میں ڈال رہا ہے کہ اس کو نااہل قرار دے کر یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں۔ کس قدر محروم ہے وہ شخص جس کو اندھا اور بہرا اور بے عقل بنا دیا جائے کیونکہ ایسا آدمی دنیا میں بالکل ذلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی کے پاس بظاہر کان ہوں مگر وہ حق کو سننے کے لئے بہرے ہو جائیں۔ بظاہر آنکھ ہو مگر وہ حق کو دیکھنے کے لئے اندھی ہو۔ سینہ میں دل موجود ہو مگر وہ حق کو سمجھنے کی استعداد سے خالی ہو جائے۔ چھینے کی یہ قسم پہلی قسم سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کو آخرت کے اعتبار سے ذلیل اور بے قیمت بنا دیتی ہے جس سے بڑی محرومی کوئی دوسری نہیں۔
آدمی کو انکار حق کے انجام سے ڈرایا جائے تو ڈھینٹ آدمی بے خوفی کا جواب دیتا ہے۔ دنیا میں اپنے معاملات کو درست دیکھ کر وہ سمجھتا ہے کہ خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کے اپنے لئے نہیں ہے۔ حتی کہ جو زیادہ ڈھیکٹ ہیں وہ حق کے داعی سے کہتے ہیں کہ تم اگر سچے ہو تو عذاب کو لا کر دکھاؤ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ خدا کا عذاب آیا تو وہ خود انھیں کے اوپر پڑے گا نہ کہ کسی دوسرے کے اوپر۔
اللہ کا داعی منذر اور مبشر بن کر آتا ہے۔ بالفاظ دیگر، آدمی کا امتحان خدا کے یہاں جس بنیاد پر ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی آگاہی کی زبان میں حق کو پہچانے اور اپنی اصلاح کرے۔ اگر اس نے آگاہی کی زبان میں حق کو نہ پہچانا اور اس کو ماننے کے لئے طلسمات و عجائبَات کا مطالبہ کیا تو گویا وہ اندھے پن کا ثبوت دے رہا ہے اور اندھوں کے لئے خدا کی اس دنیا میں بھٹکنے اور برباد ہونے کے سوا کوئی انجام نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1980 All issues