بے برداشت نہ ہو
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۳
اور تم اس وحی کے ذریعہ سے ڈراؤ ان لوگوں کو جو اندیشہ رکھتے ہیں اس بات کا کہ وہ اپنے رب کے پاس جمع کئے جائیں گے اس حال میں کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا ، شاید کہ وہ اللہ سے ڈریں۔ اور تم ان لوگوں کو اپنے سے دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی خوشنودی چاہتے ہوئے ۔ ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ تم پر نہیں اور تمھارے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ ان پر نہیں کہ تم ان کو اپنے سے دور کر کے بے انصافوں میں سے ہو جاؤ۔ اور اس طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے آزمایا ہے تاکہ وہ کہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل ہوا ہے۔ کیا اللہ شکر گزاروں سے خوب واقف نہیں ۵۳-۵۱ نصیحت ہمیشہ ان لوگوں کے لئے کارگر ہوتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہوں۔ جس کو کسی چیز کا کھٹکا لگا ہوا ہو اسی کو اس کے خطرے سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں جی رہے ہوں وہ کبھی نصیحت کے بارے۔ میں سنجیدہ نہیں ہوتے ، اس لئے وہ نصیحت کو قبول کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔ بے خوفی کی نفسیات پیدا ہونے کا سبب عام طور پر دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک دنیا پرستی ، دوسرے اکابر پرستی۔ جو لوگ دنیا کی چیزوں میں گم ہوں یا دنیا کی کوئی کامیابی پا کر اس پر مطمئن ہو گئے ہوں ، حتیٰ کہ انھیں یہ بھی یاد نہ رہتا ہو کہ ایک روز ان کو مرکز خالق و مالک کے سامنے حاضر ہونا ہے ، ایسے لوگ آخرت کو کوئی قابل لحاظ چیز نہیں سمجھتے ، اس لئے آخرت کی یاد دہانی ان کے ذہن میں اپنی جگہ حاصل نہیں کرتی۔ ان کا مزاج ایسی باتوں کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو آخرت کے معاملہ کو سفارش کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ فرض کر لیتے ہیں کہ جن بڑوں کے ساتھ انھوں نے اپنے کو وابستہ کر رکھا ہے وہ آخرت میں ان کے مددگار اور سفارشی بن جائیں گے اور کسی بھی ناموافق صورت حال میں ان کی طرف سے کافی ثابت ہوں گے۔ ایسے لوگ اس بھروسہ پر جی رہے ہوتے ہیں کہ انھوں نے مقدس ہستیوں کا دامن تھام رکھا ہے ، وہ خدا کے محبوب و مقبول گروہ کے ساتھ شامل ہیں اس لئے اب ان کا کوئی معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔ یہ نفسیات ان کو آخرت کے بارے میں نڈر بنا دیتی ہے ، وہ کسی ایسی بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو آخرت میں ان کی حیثیت کو مشتبہ کرنے والی ہو۔ جو لوگ مصلحتوں کی رعایت کر کے دولت و مقبولیت حاصل کئے ہوئے ہوں وہ کبھی حق کی بے آمیز دعوت کا ساتھ نہیں دیتے۔ کیونکہ حق کا ساتھ دینا ان کے لئے یہ معنی رکھتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کے بنے بنائے ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے۔ پھر جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حق کے گرد معمولی حیثیت کے لوگ جمع ہیں تو یہ صورت حال ان کے لئے اور زیادہ فتنہ بن جاتی ہے۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ساتھ دے کر وہ اپنی حیثیت کو گرا لیں گے۔ وہ حق کو حق کی کسوٹی پر نہ دیکھ کر اپنی کسوٹی پر دیکھتے ہیں اور جب حق ان کی اپنی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا تو وہ اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1980 All issues