بے برداشت نہ ہو
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴
اور جب تمھارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لائے ہیں تو ان سے کہو کہ تم پر سلامتی ہو- تمھارے رب نے اپنے اوپر رحمت لکھ لی ہے- بے شک تم میں سے جو کوئی نادانی سے برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد وہ توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں، اور تاکہ مجرمین کا طریقہ ظاہر ہو جائے ۵۵-۵۴ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک قسم کے لوگ وہ تھے جو آپ کی صداقت پر معجزے طلب کرتے رہے۔ دوسرے لوگ وہ تھے جو آیات قرآنی کو سن کر آپ کے مومن بن گئے۔ یہی امتحان ہر زمانہ میں انسان کے ساتھ جاری ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا خود سامنے نہیں آتا، وہ داعی کی زبان سے اپنے دلائل کا اعلان کرتا ہے، وہ اپنی صداقت کو لفظوں کے روپ میں ڈھال کر انسان کے سامنے لاتا ہے۔ اب جس کی فطرت زندہ ہے وہ انھیں دلائل میں خدا کا جلوہ دیکھ لیتا ہے اور اس کا اقرار کر کے اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے برعکس جنہوں نے اپنی فطرت پر مصنوعی پردے ڈال رکھے ہیں وہ الفاظ“ کے روپ میں خدا کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔ وہ خدا کو اس کی استدلالی صورت میں دیکھ نہیں پاتے اس لئے چاہتے ہیں کہ خدا اپنی مشاہداتی صورت میں ان کے سامنے آئے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ یہاں وہی شخص خدا کو پائے گا جو خدا کو حالت غیب میں پالے، جو شخص خدا کو حالتِ شہود میں دیکھنے پر اصرار کرے، اس کا انجام خدا کی اس دنیا میں محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔
جو لوگ اپنی کجی کی وجہ سے حق سے دور رہتے ہیں وہ حق کو قبول کرنے والوں پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں تاکہ ان کے مقابلہ میں اپنے کو بہتر ثابت کر سکیں۔ ان کو اپنے جرائم نظر نہیں آتے، البتہ حق پرستوں سے اگر کبھی کوئی غلطی ہوگئی تو اس کو خوب بڑھا کر بیان کرتے ہیں تا کہ یہ ظاہر ہو کہ جو لوگ اس دعوت کے گرد جمع ہیں وہ قابل اعتبار لوگ نہیں ہیں۔ حالاں کہ اصل صورت حال اس کے برعکس ہے۔ جن لوگوں نے ناحق کو چھوڑ کر حق کو قبول کیا ہے انھوں نے اپنے اس عمل سے ایمان واصلاح کے راستہ پر چلنے کا ثبوت دیا ہے۔ اس طرح وہ خدا کے قانون کے مطابق اس کے مستحق ہو گئے کہ انھیں اصلاحِ حال کی توفیق ملے اور وہ خدا کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیں ۔ اس کے برعکس جو لوگ حق سے دور پڑے ہوئے ہیں وہ اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ ایمان واصلاح کا طریقہ اختیار کرنے سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ خدا کی توفیق سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی ڈھٹائی کبھی ختم نہیں ہوتی اور ڈھٹائی ہی خدا کی اس دنیا میں کسی کا سب سے بڑا جرم ہے۔ خدا نشانیوں کی زبان میں بولتا ہے۔ نشانیاں اس شخص کے لئے کار آمد ہوتی ہیں جو ان کو پڑھنا چاہے ۔ اسی طرح ہدایت اسی کو ملے گی جو اس کا طالب ہو۔ جو شخص ہدایت کی طلب نہ رکھتا ہو اس کے لئے خدا کی اس دنیا میں بھٹکنے کے سوا کوئی دوسرا انجام نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1980 All issues