Al-Risala · November 1980 · page 45

بے برداشت نہ ہو

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴۵

تذکر القرآن الاسعام ۶ کہو، مجھے اس سے روکےا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ کہو میں تمھاری خواہشوں کی پیروی نہیں کر سکتا۔ اگر میں ایسا کروں تو میں بے راہ ہو جاؤں گا اور میں راہ پانے والوں میں سے نہ رہوں گا۔ کہو میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور تم نے اس کو جھٹلا دیا ہے۔ وہ چیز میرے پاس نہیں ہے جس کے لئے تم جلدی کر رہے ہو۔ فیصلہ کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ وہی حق کو بیان کرتا ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ کہو، اگر وہ چیز میرے پاس ہوتی جس کے لئے تم جلدی کر رہے ہو تو میرے اور تمھارے درمیان معاملہ کا فیصلہ ہو چکا ہوتا، اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔ اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، اس کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ خشکی میں اور سمندر میں ہے۔ اور درخت سے گرنے والا کوئی پتہ نہیں جس کا اس کو علم نہ ہو اور زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ نہیں گرتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز مگر سب ایک کھلی کتاب میں درج ہے ۵۹- ۵۴ خدا کے سوا جس چیز کو آدمی معبود کا درجہ دیتا ہے وہ اس کی ایک خواہش ہوتی ہے جس کو وہ واقعہ فرض کر لیتا ہے۔ کبھی اپنی بے عملی کے انجام سے بچنے کے لئے وہ کسی کو خدا کا مقرب یقین کر لیتا ہے جو خدا کے یہاں اس کا مددگار اور سفارشی بن جائے، کبھی وہ ایک شخصیت کے حق میں طلسماتی عظمت کا تصور قائم کر لیتا ہے تاکہ اپنے کو اس سے منسوب کر کے اپنے چھوٹے پن کی تلافی کر سکے۔ کبھی اپنی سہل پسندی کی وجہ سے وہ ایسا خدا گھڑ لیتا ہے جو سستی قیمت پر مل جائے اور معمولی معمولی چیزوں سے جس کو خوش کیا جا سکے۔

مگر اس قسم کی تمام چیزیں محض مفروضات ہیں اور مفروضات کسی کو حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے۔ تاہم آدمی اپنی سستی طلب میں کبھی اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے جنہوں نے کائنات کے حقیقی مالک کی طرف اپنے کو کھڑا کر رکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ساری بڑائی اگر اسی ایک خدا کے لئے ہے جس کے تم نمائندہ ہو تو ہم جیسے نافرمانوں پر اس کا عتاب نازل کر کے دکھاؤ۔ یہ جرأت ان کو اس لئے ہوتی ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ توحید کے داعیوں کے مقابلہ میں ان کے اپنے گرد زیادہ دنیوی رونقیں جمع ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مادی چیزیں ان کو دنیا داری اور مصلحت پرستی کی بنا پر ملی ہیں اور توحید کے داعی جوان چیزوں سے خالی ہیں وہ ان لئے خالی ہیں کہ ان کی آخرت پسندی نے ان کو مصلحت پرستی کی سطح پر آنے سے روک رکھا۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لئے یہاں دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کے مادی حالات کیا ہیں ۔ بلکہ یہ کہ وہ حقیقی دلیل پر کھڑا ہوا ہے یا مفروضات اور خوش گمانیوں پر۔ بالآخر وہی شخص کامیاب ہوگا جو واقعی دلیل پر کھڑا ہو۔ جو لوگ مفروضات پر کھڑے ہوئے ہیں ان کا آخری انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی اس دنیا میں بالکل بے سہارا ہو کر رہ جائیں۔ جس دنیا کا سارا نظام محکم قوانین پر چل رہا ہو اس کا آخری انجام خوش خیالیوں کے تابع کیوں کر ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1980 All issues

Printed page