فطرت سے انحراف
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۵
فطرت سے انحراف
گریٹا گاربو (Greta Garbo) کسی زمانہ میں ہالی وڈ کی مشہور ترین ایکٹریس تھی۔ مگر اب جڑاپے کی عمر کو پہنچنے کے بعد فلمی دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں، اس کے پرانے دوست بھی سب کے سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ ۱۸ ستمبر ۱۹۸۰ کو اس نے اپنی ۸۵ ویں سال گرہ تنہا منائی۔ گریٹا گاربو کے سوانح نگار نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس بات پر افسوس ہے کہ آپ نے شادی نہیں کی جس کی وجہ سے آج آپ کی تنہائیوں کا کوئی ساتھی نہیں۔ گریٹا گاربو نے غمگین لہجہ میں جواب دیا: میرا خیال ہے کہ میرا شادی نہ کرنا ایک غلطی تھی (ہندوستان ٹائمز ۲۱ ستمبر ۱۹۸۰)
(Not getting married was a mistake)
خدا نے انسان کو جوڑے کی صورت میں بنایا ہے۔ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے سے مل کر انسانیت کی تکمیل کرتے ہیں۔ پھر زندگی کی نوعیت کچھ اس قسم کی ہے کہ اس ملاپ کا مستقل ہونا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خدا نے نکاح کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ نکاح ایک مرد اور ایک عورت کو مستقل خاندانی تعلق میں جوڑتا ہے۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر خود اپنے تقاضوں کی تکمیل بھی کرتے ہیں اور سماج کے تقاضوں کی بھی۔
مغربی زندگی میں آزادی کے غلط تصور کا یہ نتیجہ ہوا کہ شادی کو بندھن خیال کیا جانے لگا۔ اس کے نتیجہ میں جو آزادانہ زندگی پیدا ہوئی اس نے بے شمار خاندانی اور سماجی مسائل پیدا کر دئے۔ انھی میں سے ایک وہ ہے جس سے گریٹا گاربو جیسی عورتیں دوچار ہوتی ہیں۔ جوانی کی عمر میں جب کہ ان کے اندر مردوں کے لئے کشش ہوتی ہے وہ ہر جگہ رونق محفل بنی رہتی ہیں۔ ان کو روزانہ ایسے تفریحی پروگرام ملتے رہتے ہیں جن میں مصروف رہ کر وہ اپنے صبح و شام گزارتی رہیں۔ مگر جب عمر زیادہ ہوتی ہے اور وہ جنس مخالف کے لئے اپنی نسوانی کشش کھودیتی ہیں تو اچانک ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی کی تمام سرگرمیاں محض مصنوعی سرگرمیاں تھیں۔ دوستیاں اور تعلقات اس طرح چھوٹ جاتے ہیں جیسے خزاں کے موسم میں درخت کے پتے۔ اس وقت انھیں معلوم ہوتا ہے کہ مستقل وفاداری کو بندھن سمجھنا ان کی کتنی بڑی غلطی تھی۔ ان پر یہ کھلتا ہے کہ اب تک وہ خوابوں کی دنیا میں تھیں مان کی رونقوں سے بھری زندگی اچانک ایک سونے گھر میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں ان کے لئے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہوتی کہ کہتے رو رہی پال کر دل بہلاتی رہیں، ان کا کوئی رفیق حیات نہیں ہوتا جو خوشی اور غم میں ان کا شریک ہو۔ ان کے سامنے اپنے بچوں کا وہ ”باغ‘‘ نہیں ہوتا جن کی صورت میں ایک آدمی اپنی ختم ہوتی ہوئی زندگی کے تسلسل کو دیکھ کر مطمئن ہوتا ہے۔ ان کے آس پاس کوئی ”اپنا‘‘ نہیں ہوتا جس کو اپنی زندگی کا اثاثہ سونپ کر وہ سمجھیں کہ انھوں نے دنیا میں بے کار محنت نہیں کی۔ ان کو گوشت پوست کی کوئی ایسی دنیا نظر نہیں آتی جس کو وہ اپنا سمجھیں اور جو انھیں اپنا سمجھے۔ ایسے لوگ بھری ہوئی کائنات میں بالکل تنہا ہو کر رہ جاتے ہیں اور یقیناً کسی آدمی کے لئے تنہائی سے بڑی کوئی سزا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues