الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۴
یا اپنے ذوق کے خلاف۔ یہ احساس اس کو مغلوب کرلے کہ اگر میں نے اس کو مان لیا تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا، وغیرہ۔ ان دونوں راستوں میں سے پہلا راستہ عقل کا راستہ ہے اور دوسرا سرا سر استہ گندگی کا راستہ۔ جب کوئی شخص خدا کی دی ہوئی عقل سے کام نہیں لیتا تو گویا وہ شیطان کو اپنے اندر گھسنے کا موقع دے رہا ہے۔ ایسے شخص کو شیطان اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے ۔ وہ دلائل سے ثابت شدہ بات کو اس کی نظر میں گھٹاتا ہے اور دوسری دوسری باتوں کو اسے اہم بنا کر دکھاتا ہے۔ شیطان اپنی تمام گندگیوں کے ساتھ اس کے دل و دماغ میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ اس کو فطرت کے سیدھے راستہ سے ہٹا کر خود اپنے بنائے ہوئے ٹیڑھے راستوں میں بھٹکا دیتا ہے۔
خدا کی طرف سے ہدایت کی توفیق اسی شخص کو ملتی ہے جو خدا کے تخلیقی ڈھانچہ کی پیروی کرے۔ خدا کا تخلیقی ڈھانچہ کیا ہے۔ خدا نے ہر آدمی کے اندر ضمیر رکھ دیا ہے جو ہر معاملہ کے وقت اندر سے اشارہ کرتا رہتا ہے کہ کون سا راستہ فطرت کے مطابق ہے اور کون سا فطرت کے خلاف۔ اب خدا کے تخلیقی ڈھانچہ کی پیروی یہ ہوگی کہ جس چیز کے بارے میں آدمی کے ضمیر کے اندر کھٹک پیدا ہو اس کو چھوڑ دے اور جس چیز پر اس کا ضمیر مطمئن ہو اس کو پکڑ لے۔ اسی طرح ہر آدمی کے اندر عقل ہے جو اس بات کو سمجھنے کی خدا داد صلاحیت رکھتی ہے کہ کیا چیز ثابت شدہ ہے اور کیا چیز ہے جس کے حق میں کوئی حقیقی ثبوت نہیں ۔ اب خدا کے تخلیقی ڈھانچہ کی پیروی یہ ہوگی کہ آدمی ثابت ہونے والی بات کو لے لے اور جس بات کے حق میں ثبوت نہیں ہے اس کو چھوڑ دے۔ اسی طرح ہمارے گرد و پیش خدا کی ایک پوری دنیا ہے جو کامل درجہ صحت کے ساتھ چل رہی ہے۔ جب بھی ہم کسی معاملہ میں کوئی رویہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تو کائنات کا نظام خاموش زبان میں بتاتا ہے کہ یہ رویہ اس کے مقررہ نظام کے مطابق ہے یا اس کے خلاف۔ اب خدا کے تخلیقی ڈھانچہ کی پیروی یہ ہوگی کہ آدمی جس رویہ کو خدا کی وسیع تر کائنات کے مطابق پائے اس کو اختیار کرلے اور جو رویہ اس کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دے۔
قرآن اسی حق پرستانہ زندگی کو پانے اور اس پر چلنے کے لئے ایک رہنما کتاب ہے۔ قرآن کارخانہ عالم کی گائیڈ بک ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو اور فطرت کی آواز پر دھیان دینے کے لئے تیار ہو تو وہ اس کتاب کی رہنمائی میں ضرور حقیقت کو پالے گا۔ اور جب آدمی سنجیدہ نہ ہو تو الفاظ کی زبان اس پر کام نہیں کرتی۔ ایسا شخص تو اسی وقت جاگتا ہے جب کہ حقیقت پر دہ پھاڑ کر مہمانا اس کے سامنے آ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues