اختلاف کا نقصان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۷
سے بغاوت کر کے مشرقی بنگال میں خود مختار حکومت قائم کر لی تھی۔ اس زمانہ میں ڈھاکہ کا شہر وجود میں نہ آیا تھا اور حکومت کا مستقر سونارگاؤں تھا۔ اس مسلمان بادشاہ کا ایک واقعہ ایک انگریز مورخ ایف بی بریڈے برٹ (Bradley Birt) DACCA: The Romance of one Eastern Capital کی کتاب کے دوسرے ایڈیشن مطبوعہ لندن ۱۹۱۴ء میں یہ واقعہ اس طرح درج ہے :
" ایک دن شاہ غیاث الدین تیر اندازی کی مشق کر وہا تھا۔ اتفاق سے اس کے تیر سے ایک بیوہ عورت کا اکلوتا لڑکا زخمی ہو گیا۔ بیوہ عورت کو معلوم نہ تھا کہ یہ تیر بادشاہ نے چلایا ہے۔ وہ قاضی شرع کے پاس فریاد لے کر گئی۔ قاضی نے اپنی فراست سے اندازہ لگایا کہ یہ تیر بادشاہ کا ہی چلایا ہوا تھا۔ وہ دیر تک مہذب رہا کہ بادشاہ کے خوف اور خوف خدا میں سے کس کو ترجیح دوں۔ بالآخر خدا کا خوف قاضی صاحب پر غالب آیا اور انھوں نے بادشاہ کو جواب دہی کے لئے اپنی عدالت میں طلب کیا۔ بادشاہ کو جو نہی بلاوا پہنچا وہ بلا کسی تامل کے قاضی کی عدالت کی طرف روانہ ہوا۔ لیکن اس نے اپنے کپڑوں میں ایک چھوٹی سی تلوار بھی چھپائی ۔ قاضی صاحب نے عدالت میں بادشاہ کا کسی قسم کا احترام نہیں کیا۔ اور معاملہ کی جانچ کے بعد حکم دیا کہ وہ اس بیوہ عورت کو معقول مالی معاوضہ دے کر اس سے اپنا قصور معاف کرائے بادشاہ نے بے چون و چرا اس حکم کی تعمیل کی اور بیوہ عورت کو ایک بڑی رقم پیش کر کے اس سے اپنا قصور معاف کرایا۔ مقدمہ ختم ہونے کے بعد قاضی صاحب اپنی کرسی عدالت سے اٹھ کر بادشاہ کے قدموں پر گر پڑے ۔ بادشاہ نے فوراً انھیں اٹھایا اور وہ تلوار ان کو دکھائی جو رہ اپنے کپڑوں میں چھپائے ہوئے تھا اور کہا کہ یہ تلوار میں اس لئے لایا تھا کہ اگر تم میرے اس مقدمہ میں شریعت کے حکم سے ذرا بھی روگردانی کرو گے تو میں تمھارا سر اڑا دوں گا۔ لیکن تم نے شرع کے مطابق فیصلہ صادر کرنے میں میرا کوئی خوف نہیں کیا اس کے لئے تم انتہائی اعزاز کے مستحق ہو (صفحہ ۵۵ - ۵۶) شریعت کی پابندی کی یہ مثال قائم کرنے والے بادشاہ کا مقبرہ اس کتاب کی اشاعت کے وقت تک سونار گاؤں میں موجود تھا (صدق جدید ۳۰ مئی (۱۹۸۰)
کسی قوم کی ترقی کا راز یہ ہے کہ اس کے اندر اس قسم کے زندہ افراد موجود ہوں۔ زندہ افراد کی موجودگی سے قوم زندہ ہوتی ہے اور زندہ افراد نہ ہونے سے قوم مر جاتی ہے ۔ زندہ آدمی وہ ہے جو مصلحت کے مقابلہ میں اصول کو اہمیت دیتا ہو۔ جو اپنی غلطی پر عذرات اور توجیہات کا پردہ ڈالنے کے بجائے اس کو مان لیتا ہو، جو ذاتی شکایت کو نظر انداز کر دے بلکہ اس کی بنا پر کسی کو اپنا دشمن سمجھ لے۔ جو اس وقت بھی ایک انسان کی قدر کرے جب کہ اس نے اس کے خلاف کارروائی کی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues