اپنے خلاف
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۸
اپنے خلاف
۱۹۷۱ء میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم اور پارلیمنٹری لبرل پارٹی کے صدر مسٹر جان گارٹن تھے۔ پارٹی میں ان کے خلاف شکایت پیدا ہوئی۔ اس کے بعد پارٹی کی پارلیمنٹری باڈی کی میٹنگ ہوئی جو قاعدہ کے مطابق انھیں کی صدارت میں تھی۔ میٹنگ میں ان کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز پیش ہوئی۔ اس وقت حاضر ممبران ۶۶ تھے۔ ووٹ جب لئے گئے تو دونوں طرف ۳۳ ، ۳۳ ووٹ پڑے، یعنی تحریک کے موافق اور مخالف دونوں برابر ہو گئے ۔ اب فیصلہ صدر کے ایک زائد ووٹ سے ہونا تھا۔ صدر نے اپنا زائد ووٹ استعمال کیا۔ مگر خود اپنے خلاف ۔ اس طرح انھوں نے خود اپنے ہی ووٹ سے شکست کھائی۔ اس کے بعد وہ پارٹی کی صدارت سے علیحدہ ہو گئے اور کہا: جب ممبران کی اتنی بڑی تعداد صدر کے خلاف ہے تو صدر، صدر باقی رہنے کے قابل نہیں ۔ (الجمعیتہ دہلی، ۲۰ جولائی ۱۹۷۳ء)
۲- انیسویں صدی کے وسط کی بات ہے۔ پھلواری شریف (بہار) میں دو رئیس رہتے تھے۔ ایک کا نام قاضی غلام امام اور دوسرے کا قاضی مخدوم عالم تھا۔ دونوں رشتہ دار تھے۔ کسی وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہو گیا اور مقدمہ بازی کی نوبت آ گئی۔ مخدوم عالم سرکاری ملازمت میں تھے۔ اسی دوران ان کا تبادلہ دور کے مقام پر ہو گیا جہاں سے پٹنہ کی عدالت میں تاریخوں پر حاضری سخت مشکل تھی۔ انھوں نے چاہا کہ اپنے مقدمہ کی پیروی کے لئے کسی کو مقرر کر دیں۔ کافی سوچنے کے بعد جب کوئی موزوں آدمی سمجھ میں نہ آیا تو وہ اپنے فریق مخالف قاضی غلام امام کے پاس گئے اور کہا کہ میں تبادلہ میں ہو گیا ہوں ایسی جگہ جارہا ہوں کہ مقدمہ کی پیروی خود نہیں کر سکتا۔ یہ تمام کاغذات آپ کے حوالے ہیں۔ اب آپ ہی میری طرف سے مقدمہ کو دیکھیں ، یہ کہہ کر انھوں نے قاضی غلام امام کو اپنے مقدمہ کے کاغذات دئے اور سفر پر روانہ ہو گئے ۔
قاضی غلام امام کے لئے اس اعتماد کو مجروح کرنا نا ممکن تھا جو ان کے فریق نے ان پر کیا تھا۔ انھوں نے مخدوم عالم کے مقدمہ کی پیروی کا کام اپنے ذمہ لے لیا اور خود اپنے کاغذات کسی دوسرے کے حوالے کر دیئے۔ اب صورت یہ ہوئی کہ قاضی غلام امام کے اپنے مقدمہ کی پیروی تو دوسرا شخص کر رہا ہے اور وہ خود اپنے شریق مخالفت قاضی مخدوم امام کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور یہ سب مصنوعی طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود ہار گئے اور ان کے مخالف قاضی مخدوم عالم جیت گئے (حسب روایت جعفر شاہ پھلواری مطبوعہ زندگی ستمبر ۱۹۸۰)
یہ بہادری اور اعلیٰ ظرفی کی بات ہے کہ آدمی اصول کے آگے جھک جائے ، نہ کہ وہ اصول کو خود اپنے آگے جھکا دے اور اپنے مفاد اور فائدے اور عزت اور سے غرور کی کے مخالفت سے بالاتر اٹھ کر اصول کے تقاضوں کو اپنائے اور اطاعت
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues