بلند اخلاقی کی ایک مثال
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۰
بلند اخلاقی کی ایک مثال
۲۷ ستمبر ۱۹۷۶ء کی بات ہے۔ پنڈی جیولرس (چاندنی چوک دہلی) میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ سردار شن سنگھ ہیں۔ ۲۸۔ بی ساؤتھ ایکسٹنشن پارٹ ۲، نئی دہلی میں رہتے ہیں۔ وہ ضلع راولپنڈی کے باشندے تھے۔ تقسیم کے بعد یہاں چلے آئے۔ راولپنڈی سے ۳۰ میل کے فاصلہ پر گوجر خان ایک قصبہ ہے، وہاں ان کی زمینداري تھی۔ اسی کے ساتھ وہ اس وقت آنریری مجسٹریٹ بھی تھے۔ انھوں نے اپنے زمانہ کے انگریز افسران کے بہت سے واقعات بتائے۔ ان میں سے ایک واقعہ مسٹر مارسڈن (Marsdon) کا تھا جو اس وقت راولپنڈی میں ڈپٹی کمشنر تھے۔ ۱۹۳۳ء کا واقعہ ہے، مسٹر مارسڈن سردار صاحب کے قصبہ میں آئے۔ ان کو گوجر خان کی تحصیل کا معائنہ کرنا تھا۔ تحصیل جانے سے پہلے سردار صاحب سے ملاقات ہوئی۔ سردار صاحب نے خواہش ظاہر کی کہ دوپہر کا کھانا میرے ساتھ کھائیے۔ مسٹر مارسڈن نے دعوت قبول نہ کی اور وہ تحصیل چلے گئے۔ کچھ دیر بعد دوبارہ مسٹر مارسڈن کی کار سردار صاحب کے مکان کے سامنے رکی۔ وہ باہر نکلے تو سردار صاحب نے کہا: اگر آپ نے میری دعوت قبول کرلی ہوتی تو اتنی دیر میں میں نے کھانا تیار کرایا ہوتا اور آپ کھانا کھاکر یہاں سے جاتے ۔ انگریز ڈپٹی کمشنر نے اب بھی سردار صاحب کی کھانے کی دعوت قبول نہ کی۔ البتہ اپنی لڑکی کو جو اس وقت ساتھ تھی سردار صاحب کے مکان پر چھوڑ دیا اور کہا کہ یہ کل تک آپ کے یہاں رہے گی۔ آپ جو کچھ کھلانا چاہتے ہیں اس کو کھلائیے۔ سردار صاحب حیرت میں تھے کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب خود تو ایک وقت کھانے کے لئے تیار نہیں ہیں اور لڑکی کو کئی وقت کے لئے چھوڑے جارہے ہیں۔ ان کو متعجب دیکھ کر مسٹر مارسڈن نے کہا: اصل بات یہ ہے کہ راولپنڈی میں میرے کچھ عزیز آئے ہوئے ہیں مجھے وہاں پہنچ کر ان کے ساتھ کھانا کھانا ہے، کیونکہ میں ان سے وعدہ کر چکا ہوں۔ مگر میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ لوگوں پر یہ تاثر ہو کہ ڈپٹی کمشنر صاحب یہاں آئے اور انھوں نے آپ کے مکان پر کھانا نہیں کھایا۔ اس سے آپ کی عزت پر اثر پڑے گا۔ آپ کی عزت کو بچانے کے لئے میں لڑکی کو آپ کے یہاں چھوڑے جارہا ہوں :
I want to keep your prestige
بُرا آدمی دوسرے کے بارے میں گندا یا انتہائی حساس سوچتا ہے کسی شخص اپنے بارے میں ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues