علم کی وپسی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۰، صفحہ ۱۱
علم کی وپسی
قدیم ترین زمانہ سے انسانی فکر پر مذہب کا غلبہ تھا۔ اسی کے زیر اثر فلسفہ بنا۔ فلسفہ کا رجحان ہمیشہ یہ رہا کہ عالم کی توجیہ کسی نہ کسی طرح روح یا نفس کی اصطلاحات میں کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسفہ کی بنیاد ہمیشہ تصوریت (Idealism) پر رہی ہے۔ تاہم سائنس کے جدید دور میں ایک خاص عرصہ تک انسانی فکر پر مادیت کا غلبہ ہو گیا۔ قدیم زمانہ میں انسانی فکر کے دو دھارے نہیں تھے۔ مگر موجودہ زمانہ میں انسانی فکر تصوریت اور مادیت کے دو دھاروں میں تقسیم ہو گیا ۔ اب موجودہ صدی میں یہ فاصلہ بڑی حد تک ختم ہو گیا ہے ۔ وائٹ ہیڈ کے الفاظ میں ”فلسفہ سائنس سے دور ہو گیا تھا۔ مگر اب ذہن اور مادہ کا فرق جیسے جیسے مٹ رہا ہے، فلسفہ دوبارہ اپنی پرانی اہمیت کی طرف واپس آ تا جارہا ہے “ Science and the Modern world, پروفیسرہیزن برگ (۱۹۰۱ء - ۱۸۷۲) کا شمار جدید طبیعیات کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ا انیسویں صدی کے سائنس دانوں کے نزدیک یہ ممکن تھا کہ نفسیاتی مظاہر کی کوئی توجیہ دماغ کی طبیعیات اور کیمیا کے ذریعہ کی جاسکے۔ مگر اب کوانٹم نظریہ کے آنے کے بعد اس کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ بلکہ کوانٹم نظریہ کے متعلق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ فطرت (Nature) کی کامل خارجی تشریح کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ اس کے بعد ناممکن ہو گیا ہے کہ فلسفہ اور سائنس اپنی تشدد غیر جانب داری (Armed Neutrality) کو برقرار رکھ سکیں۔ ان کو اب یا تو دوست بن جانا چاہئے یا دشمن۔ اور ان کے درمیان دوستی اس کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ سائنس وہ امتحان پاس کرے جو فلسفہ اس سے اس کے مقدمات کی بابت لے گا :
They cannot be friends unless science can pass the examination which philosophy must set to its premises. Physics & Philosophy, pp. 95-96 نیوٹن (۱۷۲۷ء - کا ظہور تاریخ میں ایک نئے فکری دور کا آغاز تھا۔ اس کی تحقیق یہ تھی کہ کائنات اپنے متعین قوانین کے تحت عمل کرتی ہے، کچھ طبیعی اسباب ہیں جو واقعات عالم کے پیچھے کارفرما ہیں۔ حتیٰ کہ کائنات کا ماضی، حال اور مستقبل سب علت و معلول کی مسلسل کڑیوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ نیوٹن اگرچہ ذاتی طور پر خدا کو مانتا تھا، مگر بعد کے مفکرین نے کہا کہ جب کائنات کے متعلق معلوم ہو گیا کہ وہ معلوم طبیعی قوانین کے تحت حرکت کرتی ہے تو پھر ایک نا معلوم خدا کو ماننے کی کیا ضرورت۔ اس طرح افکار کی دنیا میں اصول تعلیل (Principle of Causation) کا رواج ہوا جو خدا کو پوری طرح خدا اور مذہب کا بدل سمجھ لیا گیا۔ نیوٹن پہلا شخص ہے جس نے اصول تعلیل کا علمی انطباق طبیعی دنیا پر کیا۔
ڈارون - ۱۸۰۹) پر منکشف ہوا کہ یہی اصول تعلیل حیاتیات کی دنیا میں بھی کام کر رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1980 All issues