Al-Risala · February 1980 · page 7

قل ھو اللہ شریف سے شہادت کا بیان

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۷

قل ھو اللہ شریف سے شہادت کا بیان

نماز ختم ہوئی تو مسجد میں ایک بزرگ نے کھڑے ہو کر اعلان کیا: " تھوڑی دیر کے لئے سبھی لوگ ٹھہر جائیں۔ میں آپ کو قل ھو اللہ شریف سے شہادت کا بیان سناؤں گا "، لوگوں کو یہ بات انوکھی معلوم ہوئی اور نمازیوں کی بڑی تعداد اس انوکھی تقریر کو سننے کے لئے ٹھہر گئی۔ بزرگ موصوف نے تقریر شروع کی۔ مگر اس میں زیادہ تر اپنے مدرسہ کا تعارف اور اس کے لئے چندہ کی اپیل تھی۔ ایک شخص سے برداشت نہ ہو سکا ۔ وہ درمیان تقریر میں بولا : حضرت آپ نے تو کہا تھا کہ قل ھو اللہ شریف سے شہادت کا بیان سنائیں گے ۔ مگر وہ آپ نے نہیں سنایا۔ بزرگ موصوف بولے ــــــ "ارے بھائی! امام حسین جو کربلا میں شہید ہوئے ، قل ھو اللہ شریف انہیں کے نانا جان پر تو اتری تھی ! " بظاہر یہ ایک شخص کی نادانی معلوم ہوتی ہے۔ مگر اسی نادانی میں آج ہماری تمام قیادت مبتلا ہے۔ ہر قائد کے پاس ایک انوکھا نسخہ ہے اور اس کو وہ ملت کے تمام مسائل کا حل بتا کر بہت سے مسلمانوں کو جمع کر لیتا ہے۔ اس کے انوکھے نسخہ سے متاثر ہو کر بہت سے لوگ اس کو چندہ دیتے ہیں۔ بہت سے اس کے جلسہ گاہ میں شریک ہو کر اس کی شان قیادت کو بڑھاتے ہیں۔ مگر سب کچھ کر لینے کے بعد جب کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا تو لوگ پوچھتے ہیں: حضرت! جو امید دلا کر آپ نے ہم کو دوڑایا تھا وہ تو پوری نہیں ہوئی۔ اب قائد سامنے آتا ہے اور نہایت اطمینان کے ساتھ ایک ایسے نتیجہ کی خبر دیتا ہے جس کا عوام نے کبھی تجربہ نہیں کیا۔ شہادت کا بیان قل ھو اللہ شریف سے برآمد ہو جاتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ سمجھنے والے اب بھی اس کو سمجھنے سے عاجز رہے ہوں ۔

جب شور و غل کو کام سمجھ لیا جائے

عرب کے مشرکین معروف معنوں میں لا مذہبی لوگ نہیں تھے بلکہ مذہب کو ماننے والے لوگ تھے۔ حتیٰ کہ وہ نماز بھی پڑھتے تھے۔ البتہ ان کی نماز یہ تھی کہ خدا کے گھر میں جمع ہو کر تالیاں بجاتے اور سیٹی کی آوازیں نکالتے (ماکان صلاتھم عند البیت الا مکاء وتصدية انفال ۳۵) مشرکین کی یہ سنت اب بھی مشرکانہ عبادت گھروں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ تاہم شور و غل کو عبادت سمجھنے میں نام نہاد غیر مشرکین بھی ان سے زیادہ پیچھے نہیں ہیں۔ مزاروں پر قوالیاں، شب برات کے تماشے، میلاد کے ہنگامے، تقریبات میں لاؤڈ اسپیکر پر "اسلامی گانوں" کی ریکارڈنگ، سب اسی کی بدلی ہوئی صورتیں ہیں۔ پھر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس بدعت کے اثرات بہت دور تک ہماری زندگی میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مسائل ملت کے نام پر آئے دن کانفرنسوں اور کنونشنوں کی دھوم، دینی سیاست کے نام پر توڑ پھوڑ اور ایجی ٹیشن، اسلامی حکومت کے قیام کے نام پر گوڑوں اور گولیوں کی جھنکار ، سب اسی کی مختلف صورتیں ہیں۔ لوگ شور و غل کو دین سمجھے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ خدا کی دنیا خاموش سرگرمیوں کی دنیا ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اپنی آواز کو پست رکھو کیوں کہ آوازوں میں سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے (لقمان (۱۹) گدھا اللہ کی طرف سے ناپسندیدہ آواز کا ایک نمونہ ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ اس طرح چیخ پکار میں مشغول ہیں جیسے ان کو تمام آوازوں میں یہی آواز سب سے زیادہ پسند آگئی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page